1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت میں ہر گھنٹے 15 خودکشیاں

ترقی کی راہ پر گامزن بھارت مغربی دنیا کے لیے بھی امیدوں کا سامان ہے لیکن کیا وہاں کے لوگ اس کی ترقی سے فائدہ اٹھا پا رہے ہیں۔ خودکشی سے متعلق اعداد و شمار دیکھنے سے ایسا نہیں لگتا۔

default

رامبابو کے آخری دنوں میں جو کچھ ہوا، وہ بھارت کے لیے نیا نہیں ہے۔ اس غریب کسان کی فصل برباد ہو گئی۔ اس کے سر پر ٹریکٹر کے لیے لیا گیا ڈھائی لاکھ روپے کا قرض چڑھ گیا۔ بینک والوں نے انہیں پریشان کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ انہیں شرمندہ کرنے کے لیے گاؤں میں تشہیر بھی کی گئی۔ رامبابو کا بیٹا رام غلام بتاتا ہے، ’’میرے والد اس بات کو برداشت نہیں کر سکے۔ وہ ایک عزت دار آدمی تھے اور اس شرمندگی کو نہیں جھیل سکے۔ اگلے دن انہوں نے کھیت میں ایک درخت کے ساتھ خود کو پھانسی لگا لیا۔‘‘

بھارتی حکومت کی طرف سے جمعرات کو جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1.2 بلین کی آبادی میں سے گزشتہ ایک سال میں تقریباﹰ ایک لاکھ 35 ہزار لوگوں نے خود کشی کی۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں یہ تعداد 5.9 فیصد زیادہ ہے۔

Farmer in Indien

گزشتہ ایک سال میں تقریباﹰ ایک لاکھ 35 ہزار لوگوں نے خود کشی کی

خود کشی کرنے والے زیادہ تر لوگوں کے لیے وجہ مالی مشکلات یا قرض بنے جبکہ خواتین نے گھریلو دباؤ کے پیش نظر یہ اقدام اٹھایا۔ رپورٹ کے مطابق یہ دباؤ جسمانی اور ذہنی تکلیف کے علاوہ جہیز کی مانگ سے بھی پیدا ہوا۔

خود کشی کی شرح کے معاملے میں دنیا میں بھارت کا 41 واں نمبر ہے۔ یہ نمبر اسے 2008 کی عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ میں ملا ہے، جو کہتی ہے کہ دنیا کی مجموعی خودکشیوں میں سے 20 فیصد بھارت میں ہوتی ہیں۔

بھارت میں خود کشی کے سب سے زیادہ واقعات کیرالہ، تامل ناڈو، آندھرا پردیش اور کرناٹک میں پیش آئے، جہاں اب تک کئی ہزار غریب کسانوں نے اپنی جان لی۔ رپورٹ کے مطابق ساہوكاروں یا بینکوں کے قرضے ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئے۔ یہ قرض کھیتی کے لیے بیج خریدنے سے لے کر بیٹی کی شادی جیسی ضرورتیں پوری کرنے کی خاطر لیے گئے اور ایک خراب فصل کا نتیجہ ان کی زندگی کے خاتمے کے طور پر نکلا۔

سوشیالوجی کی پروفیسر ابھلاشا کماری کا کہنا ہے کہ بھارت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت نے لوگوں کی آمدنی بڑھائی ہے۔ اس سے خواہشیں بھی بڑھی ہیں لیکن خواہشیں پوری کرنا آسان نہیں ہے اور یہ مایوسی خاص طور سے نوجوانوں کے لیے مہلک ثابت ہوتی ہے۔

ابھلاشا كماری مزید کہتی ہیں، ’’بھارت کے روایتی بڑے خاندان اور دیہی کمیونٹی شہروں میں آ کر مکس ہو چکے ہیں۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں شہروں کا رخ کرتے ہیں اور مصیبت آنے پر ان کو کوئی بھی سہارا میسر نہیں آتا۔‘‘

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM