1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت میں گرمی کی لہر، اپریل میں ہی چورانوے افراد ہلاک

بھارت میں گرم موسم کا آغاز کچھ جلد ہی ہو گیا ہے۔ اس برس وہاں پڑنے والی گرمی کی لہر انسانی جانوں کے ضياع کا سبب بننا شروع ہو چکی ہے۔ موسموں میں اس شدت کی وجہ ماحولیاتی تبدیلیوں کو قرار دیا جاتا ہے۔

Indien Unwetter Hitze

بھارت کی جنوبی ریاستوں تلنگانہ اور اندھرا پردیش میں درجہ حرارت 41 سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے بتایا ہے کہ بھارت میں موسم گرما کی ابتدائی لہر کی وجہ سے گزشتہ نو دنوں ميں کم ازکم چورانوے افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ طبی حکام نے بتایا ہے کہ یہ افراد گرمی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے سبب ہلاک ہوئے ہیں۔

بھارت کی جنوبی ریاستوں تلنگانہ اور اندھرا پردیش میں درجہ حرارت 41 سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے۔ ماضی کے مقابلے میں اس برس موسم گرما کی شدت کو انتہائی زیادہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی دوران حکام نے عوام کو موسم کی شدت سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

گرمی کی اس شدید لہر سے بچنے کے لیے ریاست تلنگانہ میں مقامی حکام نے بے گھر افراد کو رہائش فراہم کرنے کی مہم بھی شروع کر دی ہے۔

ساتھ ہی ہسپتالوں میں ’ہیٹ اسٹروک‘ کے مریضوں کے علاج کے لیے بھی اضافی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اسی مقصد سے اس ریاست کے مرکزی ہسپتالوں میں اضافی بستر بھی لگائے جا رہے ہیں۔

تلنگانہ کے ہر ضلع میں تین تين ارکان پر مشتمل ٹیميں تشکیل دے دی گئی ہے، جو موجودہ صورتحال سے نمٹنے میں متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کريں گی اور گرمی سے ہلاک ہونے والے افراد کا ڈیٹا جمع کريں گی۔

Indien Unwetter Hitze

موسموں میں اس شدت کی وجہ ماحولیاتی تبدیلیوں کو قرار دیا جاتا ہے

بھارت میں موسم گرما کا آغاز اپریل میں ہوتا ہے جبکہ مئی میں یہ اپنی انتہا کو پہنچتے ہوئے جون تک جاری رہتا ہے۔ جولائی میں عمومی طور پر مون سون کا سیزن شروع ہوتا ہے اور بارش کی وجہ سے گرمی کی شدت میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔

گزشتہ برس بھارت میں مئی کے اواخر تک گرمی کی وجہ سے کسی کے مر جانے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔ تاہم گزشتہ سال میں اس شدید موسم کے باعث دو ہزار افراد مارے گئے تھے، جو ایک ریکارڈ قرار دیا جاتا ہے۔

بھارتی حکام پہلے ہی اس سیزن میں خبردار کر چکے ہیں کہ اس سال گرمی کی شدت بہت زیادہ رہے گی۔