1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت میں گائیں ٹرانسپورٹ کرنے پر قتل، سولہ ہندو ملزم گرفتار

جنوبی بھارت میں ایک شہری کو اس وجہ سے قتل کر دیا گیا کہ وہ اپنی وین میں تین گائیوں کو ٹرانسپورٹ کر رہا تھا۔ کرناٹک میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد پولیس نے دائیں بازو کے سولہ انتہا پسند ہندو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے جمعہ انیس اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق یہ قتل بھارت میں انسانی ہلاکتوں کے سلسلے اور تشدد کے ان واقعات کی تازہ کڑی ہے، جو اس وجہ سے رونما ہوتے ہیں کہ اس جنوبی ایشیائی ملک میں، جہاں گائے کو مقدس مانا جاتا ہے، خود کو گائے کی حفاظت پر مامور رضا کار قرار دینے والے ہندو انتہا پسند ایسے افراد پر مسلح حملے کرتے ہیں، جنہوں نے گوشت کے لیے گائے کو ذبح کیا ہو۔

کئی بھارتی ریاستوں میں اب تک گائے کو ذبح کرنے کے علاوہ گائے کے گوشت کی برآمد پر بھی پابندی لگائی جا چکی ہے۔ اب تک ایسے واقعات میں زیادہ تر مسلمان شہریوں پر حملوں کی اطلاعات تھیں، کیونکہ مسلمانوں کے لیے گائے کا گوشت کھانا مذہبی بنیادوں پر ممنوع نہیں ہے۔

لیکن بھارت کے مختلف حصوں سے اب یہ رپورٹیں بھی مل رہی ہیں کہ وہاں دائیں بازو کے ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے ایسے ہندو شہریوں پر بھی حملے کیے جانے لگے ہیں، جو مبینہ طور پر گائیوں کو اس مقصد کے لیے کہیں لے جا رہے ہوں کہ بعد ازاں انہیں ذبح کیا جا سکے۔

ایسا ہی ایک تازہ واقعہ جنوبی بھارتی ریاست کرناٹک کے ضلع اڈُوپی میں بدھ سترہ اگست اور جمعرات اٹھارہ اگست کی درمیانی رات پیش آیا، جس میں دائیں بازو کی ایک ہندو تنظیم کے ارکان نے ایک وین پر حملہ کر دیا۔

اس وین میں دو ہندو شہری، انتیس سالہ پروین پجاری اور بائیس سالہ اکشے دیودیگا تین گائیوں کو کہیں لے کر جا رہے تھے۔ اڈُوپی میں ضلعی پولیس کے سربراہ کے ٹی بالاکرشنا نے ڈی پی اے کو بتایا کہ ان ملزمان نے اس وین میں سوار افراد پر اس کے ذریعے ٹرانسپورٹ کی جانے والی گائیوں کی وجہ سے حملہ کر دیا اور انہیں لوہے کی سلاخوں سے اتنا پیٹا کہ بعد ازاں پروین پجاری نامی شہری ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

Indien Protest gegen den Lynchmord an Mohammed Akhlaq

ممبئی میں گزشتہ برس ایک مسلمان شہری محمد اخلاق کے ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں گائے کو ذبح کرنے کے شبے میں قتل کے خلاف مسلمانوں کا احتجاجی مظاہرہ

کے ٹی بالاکرشنا نے ٹیلی فون پر بتایا، ’’ان ملزمان کو شبہ تھا کہ یہ دونوں افراد اپنی وین میں گائیوں کو لے کر کسی مذبحہ خانے کی طرف جا رہے تھے۔‘‘ پولیس کے مطابق شبہ ہے کہ پروین پجاری اور اس کے ہمراہ سفر کرنے والے اس کے دوست پر حملہ انہی ملزمان نے کیا۔

بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی نے بتایا ہے کہ پجاری کاجیکے نامی قصبے کا ایک ہندو دکاندار تھا، جو وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا ایک مقامی رکن بھی تھا۔ وہ مبینہ طور پر کرائے پر اپنی وین میں گائیوں کی مال برداری کر رہا تھا۔

کرناٹک کے وزیر داخلہ جی پرمیشور کے مطابق یہ واقعہ گائے کی حفاظت کرنے والے ہندوؤں کے ہاتھوں انسانی ہلاکت کا کوئی واقعہ نہیں بلکہ غالباﹰ مویشیوں کی تجارت سے متعلق ایک تنازعے کا نتیجہ تھا۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات