1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

بھارت میں کھیلنے سے کوئی خوف نہیں، آفریدی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ وہ عالمی کپ کا کوارٹر فائنل بھارت میں کھیلنے سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی ٹیموں کے ممکنہ مقابلے سے دو طرفہ تعلقات میں موجود تناؤ کم ہوسکتا ہے۔

default

آفریدی نے میڈیا میں زیرگردش ان اطلاعات کو غلط قرار دیا جن کے مطابق پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے اگلے مرحلے کے میچز بھارت میں نہیں کھیلنا چاہتی۔ ’’ ہم یہاں عالمی کپ کے مقابلوں میں شرکت کرنے آئے ہیں، تو ہمیں جہاں بھی جانا ہوگا ہم جائیں گے، میں نے ایسا کبھی نہیں کہا کہ ہم بھارت نہیں جانا چاہتے، ہمیں بھارت جانے میں کوئی خوف نہیں۔‘‘

ممبئی میں 2008ء کے دہشت گردانہ حملوں کے سبب جنوبی ایشیاء میں جوہری طاقت کے حامل ان دو ممالک کے تعلقات کشیدہ چلے آرہے ہیں۔ ان حملوں کے سبب بھارت نے پاکستان کے خلاف سیریز کھیلنے سے انکار کردیا تھا تاہم 2009ء میں جنوبی افریقہ میں منعقدہ چیمپیئنز ٹرافی میں دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے مدمقابل آچکی ہیں۔ اس مقابلے میں پاکستان کی جیت ہوئی تھی۔ رواں عالمی کپ کے دوران پاکستان نے اپنے تمام گروپ مقابلے سری لنکا میں کھیلے ہیں۔

Cricket World Cup 2011 Virender Sehwag

بھارتی اوپنر وریندر سہواگ

حالیہ انٹرویو میں آفریدی نے واضح کیا ہے کہ وہ اور ان کے دیگر ساتھی بھارت میں کھیل کر لطف محسوس کرتے ہیں۔ ’’ میں نے ہمیشہ بھارت میں کھیل کر لطف محسوس کیا ہے، اتنا زیادہ مزہ کہیں اور کھیل کر نہیں آیا۔‘‘

آفریدی نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کی پہلی سنچری 1999ء میں بھارتی شہر چنئی میں اسکور کی تھی۔ ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کی چوتھی تیز ترین سنچری بھی آفریدی نے بھارتی شہر کان پور میں اسکور کی تھی۔ 45 گیندوں پر سنچری قائم کرنے کا یہ کارنامہ انہوں نے 2005ء میں سرانجام دیا تھا۔ رواں عالمی کپ کے گروپ اے میں پاکستان نے اب تک پانچ میچوں میں سے چار جیت کر آٹھ پوائنٹس حاصل کر رکھے ہیں۔

آفریدی کی ٹیم ہفتہ 19 مارچ کو آسٹریلیا کا مقابلہ کرے گی۔ اس میچ میں فتح کی صورت میں پاکستان گروپ اے کی سرفہرست ٹیم بن کر ابھرے گی۔ آفریدی پر امید ہیں کہ ان کی ٹیم آسٹریلیا کو ہرانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

Flash-Galerie Cricket Spieler Pakistan Younus Khan

پاکستانی مڈل آرڈر بلے باز یونس خان

بھارت میں انتہا پسند حلقوں کی جانب سے کسی ممکنہ حملے سے متعلق آفریدی کا کہنا ہے، ’’ جب ہم وہاں جائیں گے تو ہمیں ردعمل کا پتہ چلے گا کیونکہ ہم کافی عرصے بعد وہاں جارہے ہوں گے۔‘‘ 1999ء کے دورہء بھارت کو یاد کرتے ہوئے آفریدی نے کہا کہ مشکل ترین حالات میں بھی پاکستانی ٹیم بھارت کا دورہ کرچکی ہے۔ ’’ دونوں ٹیموں پر دباؤ رہتا ہے، جو بھی اس دباؤ کو ٹھیک طریقے سے سنبھالنے میں کامیاب رہتا ہے وہ کامیاب ہوجاتا ہے۔‘‘

دریں اثنا لندن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر آج سپاٹ فکسنگ کے الزامات کے سلسلے میں مقامی عدالت میں پیش ہورہے ہیں۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت: افسر اعوان

DW.COM