1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت میں کوئی اتنا امیر اور کوئی اتنا غریب کیوں؟

ایک طرف تو بھارت میں بے شمار ایسے افراد ہیں، جو دن بھر کی مشقت کے بعد ایک ڈالر سے بھی کم کما پاتے ہیں اور دوسری جانب بھارت میں کروڑپتی افراد کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ بھارت میں اس معاشی عدم مساوات کی وجوہات ہیں کیا؟

بھارت ایشیا پیسیفک خطے میں سب سے زیادہ کروڑپتی افراد کی تعداد کے اعتبار سے چوتھے نمبر پر ہے اور وہاں ایک ملین ڈالر یا اس سے زیادہ سرمایے کے حامل افراد کی تعداد دو لاکھ 36 ہزار ہے۔ تاہم جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے ادارے نیو ورلڈ ویلتھ کی رپورٹ کے مطابق وہاں امیر اور غریب کے درمیان فرق انتہائی زیادہ ہے۔

چین اور جاپان کے بعد ایشیا میں بھارت ارب پتی افراد کی تعداد میں مسلسل اضافے کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں بھارتی معیشت میں کس قدر ترقی ہوئی ہے۔

مگر ساتھ ہی سرمایے کی دوڑ میں اوپر اور نیچے والوں کے درمیان فرق بھی شدید ہو گیا ہے۔ سرمایے کی تقسیم میں یہ تفریق بھارت کی تمام تر اقتصادی ترقی کے باوجود غریبوں کی زندگیوں کو بدلنے میں بہت حد تک ناکام رہی ہے۔

معاشی عدم استحکام کو جانچنے کے لیے جینی کوایفیشنٹ کا معیار استعمال کیا جاتا ہے، جس میں زیرو مساوت اور 100 مکمل عدم مساوات کو ظاہر کرتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس انڈیکس میں بھارت سن 1993ء میں 30.8 پر تھا مگر 2009ء میں 33.9 پر ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے بعد کا ڈیٹا عالمی بینک کے پاس موجود نہیں ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے اقتصادی ترقی کے لیے ترتیب دی گئی پالیسیوں نے معاشی عدم مساوات کے بڑھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

سن 1990ء کی دہائی میں بھارت نے اقتصادی ترقی کے لیے اہم اصلاحات کا اعلان کیا تھا، جس میں مارکیٹوں کو ڈی ریگولیٹ کرنا، درآمدی محصولات میں کمی اور کچھ شعبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری کے لیے راہ ہم وار کرنے جیسے اقدامات شامل تھے۔

ان اصلاحات کی وجہ سے کئی ملین بھارتی شہری غربت کے دائرے سے باہر نکلے جب کہ ان اصلاحات کا بہت زیادہ فائدہ کچھ خاص اداروں اور کمپنیوں کو بھی ہوا، جو اپنے سرمایے کو دن دوگنا رات چوگنا بناتے ہوئے بے انتہا سرمایے کی مالک بن گئیں۔

ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی آبادی کا ایک فیصد امیر طبقہ مجموعی ملکی دولت کے 53 فیصد کا مالک ہے۔