1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت میں کروڑوں بچوں کا قد چھوٹا کیوں ؟

ٹوائلٹس کی کمی کے باعث عالمی سطح پر نقص نمو کے شکار سب سے زیادہ بچے بھارت میں ہیں۔ اس بیماری میں بچوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف ان کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے بلکہ ان کی دماغی صلاحیتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بین الاقوامی امدادی ادارے ’واٹر ایڈ‘ کی ایک تازہ رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان، نائجیریا، چین اور افریقی ملک کانگو کے مقابلے میں نقص نمو یا چھوٹے قد والے بچوں کی بھارت میں تعداد سب سے زیادہ ہے، اس کے باوجود کے گزشتہ چند برسوں میں بھارت میں اقتصادی ترقی ہوئی ہے۔ واٹرایڈ نامی ترقیاتی تنظیم کے مطابق 5 سال سے کم عمر کے 48 ملین بچے بھارت میں اس بیماری کا شکار ہیں۔

عمر کے لحاظ سے چھوٹا قد رہ جانا غذائی قلت کا ایک سبب ہے اور اس بیماری کا علاج بچے کی پیدائش کے دو سال بعد ممکن نہیں رہتا۔ ایسے بچے جسمانی اور ذہنی طور پر اپنے ہم عمر بچوں کی نسبت کمزور رہ جاتے ہیں۔ واٹر ایڈ کی رپورٹ کے مطابق ٹوائلٹس اور صاف پانی کی کمی بہت سے بچوں کو اس بیماری میں مبتلا کر رہی ہے۔

واٹرایڈ کے اعدادو شمار کے مطابق بھارت میں ہر سال ایک لاکھ چالیس ہزار بچے اسہال سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ بھارت میں 76 ملین بچوں کو صاف پانی میسر نہیں ہے جبکہ 774 ملین افراد آلودہ ماحول میں رہ رہے ہیں۔

واٹرایڈ کی شعبہء صحت و حفظان صحت کی ماہر میگن ولسن جونز کہتی ہیں، ’’بھارت میں ایسے افراد کی شرح سب سے زیادہ ہے جنہیں بیت الخلاء کی سہولت میسر نہیں ہے، جس کی وجہ سے بیماریاں پھیلتی ہیں اور بچوں کو اسہال ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔‘‘ میگن ولسن کی رائے میں اس لیے یہ حیران کن نہیں ہے کہ بھارت میں اپنی عمر کے لحاظ سے چھوٹے قد والے بچوں کی شرح اتنی زیادہ ہے۔

اقوم متحدہ کے بچوں کے لیے ادارے یونیسف کے مطابق بھارت میں 594 ملین افراد کو بیت الخلاء کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے اگلے چار برسوں میں بھارت کے ہر گھر میں ٹوائلٹ بنانے کا وعدہ کیا ہے۔

بھارت کے بعد، نائجیریا میں 10.3 ملین اور اس کے بعد پاکستان میں ایسے بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جن کا قد ان کی عمر کے لحاظ سے چھوٹا ہے۔ واٹر ایڈ کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں 9.9 ملین اور بنگلہ دیش میں 5.5 ملین بچے نقص نمو کا شکار ہیں۔ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش نے گزشتہ دس برسوں میں ایک مہم کے تحت بڑے پیمانے پر بیت الخلاء تعمیر کروائے ہیں۔

DW.COM