بھارت میں کرسمس اور سال نو کی تقریبات کی مخالفت | معاشرہ | DW | 20.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت میں کرسمس اور سال نو کی تقریبات کی مخالفت

بھارت کی سخت گیر موقف کی حامل مختلف ہندو تنظیموں نے کرسمس پر سکولوں میں تقاریب منعقد کرنے اور سال نو پر جشن  منانے کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ دھمکی دے ہے کہ اگر تقریبات منعقد کی گئیں تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔

ریاست مدھیہ پردیش میں چند روز قبل ہی ایک مسیحی مذہبی رہنما پر ایسی ہی تنظیموں نے حملہ کیا تھا جس کے بعد اب ریاست اتر پردیش کے بھی مختلف علاقوں میں اس طرح کی دھمکیاں کھلے عام دی جا رہی ہیں۔ سخت گیر ہندو تنظیم 'ہندو جاگرن منچ' نے اس سلسلے میں علی گڑھ کے تمام سکولوں کو ایک خط لکھا ہے اور ان سے کہا ہے کہ کرسمس کا تہوار مغربی تہذیب کا حصہ ہے اس لیے ایسی کسی بھی تقریب سے احتناب کیا جائے۔

تنظیم کے ایک سینیئر رہنما سونو سری واستو نے جو خط تحریر کیا ہے اس میں لکھا ہے کہ کرسمس کے موقع پر اس طرح کی تقاریب تبدیلی مذہب کا باعث بنتی ہیں، جو برداشت نہیں کی جائیں گی،’’ہم نے سکولوں کو خط لکھا ہے اور اب مستقبل کا لائحمہ عمل ان کے جواب پر منحصر ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر سکول ایسا کرنا چاہیں تو وہ اپنے رسک پر کریں، اگر کچھ ہوا تو ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔‘‘

اس خط کے مطابق کرسمس کے دن بچے سکول میں تحفے نہ تو لائیں اور اور نہ ہی کسی سے قبول کریں اور کسی قسم کی تقریب کا انعقاد قطعی نہ ہونے پائے۔

ایک دوسری سخت گیر ہندو تنظیم 'وشوا ہندو مہا سبھا' نے ہندو جاگرن کے ساتھ مل کر معروف سیاحتی شہر آگرا میں اعلان کیا ہے کہ وہ ریاست میں نئے سال کے موقع پر ہونے والی تقاریب کی مخالفت کریں گے۔

اس سے متعلق ایک میٹنگ کے بعد تنظیم کے سربراہ منوج اگروال نے صحافیوں کو بتایا کہ چونکہ سال نو کی تقریب مغربی تہذیب کا حصہ ہے اور ہندو تہذیب و ثقافت سے میل نہیں کھاتی اس لیے بھارت میں اس کی اجازت نہیں ہونی چاہیے ۔

ان کا کہنا تھا،’’نئے سال کے موقع پر ہونے والے پروگرام مغربی تہذیب و ثقافت کو پروان چڑھاتے ہیں۔ اس کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں۔ اس موقع پر رات کو ہوٹلوں میں فحاشی ہوتی ہے، جسے ہم قطعی نہیں ہونے دیں گے۔‘‘

بھارت میں کلیساؤں پر حملے: مودی کا کریک ڈاؤن کا وعدہ

بھارت نے سکھ یاتریوں کو آنے سے روک دیا، پاکستان کا الزام

بھارت، جبراﹰ مذہب تبدیل کرانے کے الزام میں پادری گرفتار

ایک سوال کے جواب میں منوج اگراول نے کہا کہ اگر ان کی تنظیم کے احکامات پر توجہ نہیں دی گئی تو پھر وہ زبردستی کرنے پر مجبور ہوں گے،’’پہلے تو ہم عدم تشدد کا راستہ اپنائیں گے لیکن اگر وہ پھر بھی باز نہ آئے تو پھر ہم اپنے طریقے سے کارروائی کریں گے۔‘‘

'ہندو مہاسبھا سنگھ' کی اس میٹنگ میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمان پرمود گپتا بھی موجود تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تنظیم کے بانی خود ریاست کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ ہیں اور اس کا کام ہندو مذہب کی تہذیب و ثقافت کو فروغ دینا ہے۔

ان کا کہنا تھا، ’’ہر ملک کی اپنی ایک خاص تہذیب ہوتی ہے اور ہماری تو اپنی ہندو تہذیب ہے۔ ہندو بھی اب مغربی تہذیب اپنانے لگے ہیں اور ہم اپنے نوجوانوں کو گمراہ ہونے سے بچانا چاہتے ہیں اور اسی لیے اس کی حمایت کرتے ہیں۔‘‘

 ان تنظیموں نے کرسمس اور سال نو کی مخالفت میں مختلف مقامات پر احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

اس دوران ریاست کی پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایسی تنظیموں کی دھمکیوں کا نوٹس لیا گیا ہے اور کوشش کی جائے گی کہ سال نو کے موقع پر ہونے والی تمام تقاریب اور پروگرام پر امن طریقے سے ہوں۔

سینیئر پولیس افسر آنند کمار کا کہنا تھا، ’’اس سلسلے میں مختلف اضلاع کے حکام کو خصوصی ہدایات دی گئی ہیں تاکہ سماج دشمن عناصر کے خلاف سختی برتی جا سکے۔‘‘

لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ریاستی حکومت، جہاں پر یہ میٹنگز ہو رہی ہیں اور مخالفت کرنے کے لیے زور شور سے تیاریاں چل رہی ہیں، کو ایسی کسی بھی چیز کی اطلاع تک نہیں ہے۔ ریاست اترپردیش کے نائب وزیر اعلی دنیش شرما سے جب اس بارے میں پوجھا گیا تو ان کا کہنا تھا ایسی کسی دھمکی کا انہیں علم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا،’’حکومت کی پالیسی تمام مذاہب کا احترام کرنا ہے اور لوگ اپنے مذہبی تہواروں کو منانے کے لیے آزاد ہیں۔‘‘

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جب حکمراں جماعت کے ارکان پارلیمان خود اس طرح کی سرگرمیوں میں شریک ہوتے ہوں تو پھر پولیس انتظامیہ بھی مجبور ہوتی ہے اور ماضی میں متعدد بار دیکھا گیا ہے کہ ہندو تنظیموں نے توڑ پھوڑ کی ہے۔ عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ یہ سب بی جے پی کی حکومت کی ایما پر ہوتا ہے کیونکہ وہ کارروائی کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔

چند روز قبل ہی ایک دوسری سخت گیر ہندو تنظیم 'رکشا ویدک یوا سینا' نے بھی نئے سال کے موقع پر اداکارہ سنی لیونی کے پروگرام کی سخت مخالفت کی تھی۔ جنوبی شہر بنگلور میں نئے سال کے موقع پر 'سنی نائٹ' کے نام سے رات کو ایک بہت بڑا پروگرام ہونا طے ہے لیکن ہندو تنظیمیں اس کی مخالف ہیں اس لیے اسے منسوخ کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ 

مذہبی فسادات سیکولر بھارت کے لیے خطرہ

بھارت میں مذہبی مقامات سیاحوں کے نئے ’ہاٹ اسپاٹ‘

بھارت: کرائے پر گھر نہ مسلمانوں کے لیے نہ تنہا خواتین کے لیے

رکشنا ویدک یوا سینا کا کہنا ہے اس پروگرام میں سنی کا رقص ہندو کلچر پر ایک حملہ ہے اس لیے اس کی قطعی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سنی کے خلاف احتجاج مظاہرے ہوئے جس میں ان کے پتلے اور ان کی تصویں  نذر آتش کی گئیں۔ تنظیم نے دھمکی دی ہے کہ اگر یہ پروگرام ہوا تو اس کی مخالفت میں اجتماعی طور پر درجنوں لوگ سٹیج کے باہر خودکشیاں کریں گے۔

ماہرین کے مطابق بھارت میں جب سے قوم پرست دائیں بازو کی جماعت بی جے پی اقتدار میں آئی ہے تب سے مذہبی منافرت میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ مسلم اور عیسائی اقلیتوں پر مذہب کی بنیاد پر حملے اب ایک عام بات ہیں اور حالت یہ ہے کہ اگر کوئی گنگا جمنی تہذیب کی بات کرے تو اسے بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔

چند روو پہلے ہی کی بات ہے ریاست مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیوندر فڈنویس کی اہلیہ امروتا فڈنویس نے کرسمس سے متعلق ممبئی میں ہونے والے ایک خیراتی ایونٹ میں حصہ لیا تھا۔ ہندو تنظیموں نے اس خبر کے آتے ہی سوشل میڈیا پر وزیر اعلی کی اہلیہ کے خلاف مہم شروع کر دی اور ان کے بارے میں ایسے برے الفاظ تحریر کیے کہ انہیں یہ صفائی دینی پڑی کہ وہ ایک ہندو ہیں۔

غور طلب بات یہ ہے کہ دیوندر فڈنویس بی جے پی کے رہنما اور سخت گیر ہندو تنظیم آر ایس ایس کے ایک اہم رکن ہیں۔ لیکن سخت گیر ہندو تنظیموں کو یہ قطعی برداشت نہیں ہے کہ کوئی ہندو رہنما کسی دوسرے مذہب کے ثقافتی پروگرام میں شامل ہو۔ یہ تنظیمیں ویلنٹائن اور کرسمس جیسے موقعوں پر ملک کے بیشتر حصوں میں اکثر ہنگامہ برپا کرتی رہتی ہیں۔

 

 

DW.COM