1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت میں کرائے کی کوکھ، سالانہ دو ارب ڈالر سے زائد کا بزنس

بھارتی خواتین پیسے لے کر دوسری عورتوں کے جو بچے جنم دیتی ہیں، اس کی سالانہ کاروباری مالیت دو ارب ڈالر سے زائد بنتی ہے۔ اب لیکن بھارتی حکومت ’کرائے کی کوکھ‘ کہلانے والی اس تجارت پر قانوناﹰپابندی لگانے ہی والی ہے۔

Indien Leihmutterschaft - Surrogacy Centre India (SCI) clinic in Neu-Delhi (Getty Images/AFP/S. Hussain)

بھارتی حکومت پیسے لے کر اپنی کوکھ کرائے پر دینے کے عمل پر قانوناﹰ پابندی لگا دینا چاہتی ہے، تصویر میں ایسی ہی ایک بھارتی ماں

بھارت کے تجارتی مرکز ممبئی سے جمعرات انیس جنوری کو موصولہ نیوز ایجنسی تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کی ایک تفصیلی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ بالغ عورتوں کی طرف سے اپنی کوکھ کرائے پر دینا، جسے طبی اصطلاح میں سرّوگیسی (surrogacy) کہا جاتا ہے، آبادی کے لحاظ سے دنیا کے اس دوسرے سب سے بڑے ملک میں سالانہ 2.3 بلین ڈالر مالیت کا کاروبار ہے۔

نئی دہلی میں ہندو قوم پرست سیاستدان نریندر مودی کی حکومت اب ملک میں اس کاروبار کو قانوناﹰ ممنوع قرار دے دینا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں ممکنہ قانون سازی کے لیے بڑی پیش رفت ملکی پارلیمان کے اس اجلاس میں متوقع ہے، جو اگلے ماہ سے شروع ہو رہا ہے۔

انسانی حقوق اور حقوق نسواں کے لیے سرگرم کئی تنظیموں کی طرف سے بھارت میں سرّوگیسی پر شدید تنقید کی جاتی ہے کہ یوں اپنی ممتا کرائے پر دینے والی عورتیں کئی طرح کے خطرات کا شکار ہو جاتی ہیں۔ مودی حکومت کا کہنا ہے کہ قانونی پابندی سے اس ’غیر اخلاقی‘ کاروبار کی حوصلہ شکنی کی جا سکے گی۔

تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن نے لکھا ہے کہ اس آئندہ پابندی سے قبل بہت سی بھارتی خواتین اس کوشش میں ہیں کہ جلد از جلد ’مستقبل کی ماں کے طور پر اپنی کوکھ کرائے پر دے کر‘ لاکھوں روپے کما سکیں۔ بھارت میں کسی بھی ’سّروگیٹ ماں‘ کو اوسطاﹰ چار لاکھ روپے تک کی رقم ادا کی جاتی ہے، جو قریب چھ ہزار امریکی ڈالر کے برابر بنتی ہے۔

Indien Anand Untersuchung Schwangere Frau (Getty Images/AFP/D. Sarkar)

بھارتی حکومت کمرشل سروگیسی کے خلاف قانون سازی کا ارادہ رکھتی ہے

اگر بھارت میں یہ نیا قانون منظور ہو گیا تو ملک میں تجارتی بنیادوں پر ’کرائے کی کوکھ‘ پر پابندی لگا دی جائے گی لیکن ایسے شادی شدہ بھارتی جوڑوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یہ سہولت حاصل رہے گی کہ اگر ان کے اپنے ہاں اولاد نہ ہو رہی ہو تو وہ بغیر کسی ادائیگی کے کسی دوسری عورت کی مدد سے والدین بن سکیں۔

اب تک کے حکومتی ارادوں کے مطابق اکیلے زندگی گزارنے والے بھارتی شہریوں اور ہم جنس پرست جوڑوں کو مستقبل میں یہ قانونی سہولت حاصل نہیں ہو سکے گی کہ وہ surrogacy کے ذریعے ماں باپ بن سکیں۔

تجارتی بنیادوں پر کرائے کی کوکھ ایک ایسا مسئلہ ہے، جس کے بارے میں اقوام متحدہ کی بچوں کے حقوق کی کمیٹی نے 2014ء میں کہہ دیا تھا کہ اگر سرّوگیسی کے طبی عمل کو قانونی حدود و قیود میں نہ لایا گیا تو اس کا مطلب ’بچوں کی تجارت‘ ہو گا۔ اس کے ایک سال بعد 2015ء میں بھارت میں غیر ملکی شہریوں کی طرف سے مقامی عورتوں کی کوکھ کرائے پر لینے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

کن ملکوں میں کون سے قوانین

بین الاقوامی سطح پر دیکھا جائے تو کینیڈا، ڈنمارک، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور برطانیہ میں تجارتی بنیادوں پر کسی خ‍اتون کی کوکھ کرائے پر لینے پر پابندی عائد ہے۔ جرمنی، فرانس، اٹلی، پرتگال، اسپین اور بلغاریہ میں تو ہر قسم کی سرّوگیسی ممنوع ہے۔

Indien Leihmutterschaft (Sam Panthakya/AFP/Getty Images)

بھارت میں اپنی کوکھ کرائے پر دینے والی خواتین کا تعلق اکثر غریب گھرانوں سے ہوتا ہے، جو پیسوں کے لیے ایسا کرتی ہیں

امریکا میں وفاقی سطح پر اس موضوع پر ابھی تک کوئی قانون سازی نہیں کی گئی اور چند امریکی ریاستیں تو تجارتی بنیادوں پر کسی عورت کی کوکھ کرائے پر لینے کی باقاعدہ اجازت بھی دیتی ہیں۔ تھائی لینڈ میں مالی فائدے کے لیے کمرشل سّروگیسی برسوں تک جاری رہی لیکن 2015ء میں حکومت نے غیر ملکیوں کے لیے اس پر پابندی لگا دی تھی۔

بین الاقوامی سطح پر اب جارجیا اور یوکرائن جیسے ممالک کرائے کی کوکھ کے کاروبار کے نئے مراکز بن چکے ہیں، جہاں اس شعبے میں سہولیات اور خدمات فراہم کرنے والے تجارتی اداروں کا کہنا ہے کہ ان دونوں ملکوں کی قومی حکومتوں نے ابھی تک اس بارے میں کوئی قانون سازی نہیں کی۔

روس میں سرّوگیسی یا کرائے کی ماں بننے پر قانوناﹰ کوئی پابندی عائد نہیں اور وفاق روس کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے، جنہوں نے اس حوالے سے اپنے ہاں سب سے کھلی اجازت دے رکھی ہے۔

DW.COM