1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت میں کانگریس پارٹی کی مقبولیت میں مسلسل کمی

بھارت میں کانگریس پارٹی کے لیے عوامی تائید مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ ایک نئے سروے کے مطابق اس وقت اگر ملک میں نئے الیکشن کرائے جائیں تو کانگریس اپنی موجودہ پارلیمانی نشستوں میں سے چالیس سے زیادہ سیٹیں کھو دے گی۔

default

کانگریس پارٹی کی مقبولیت میں کمی کی وجہ مختلف حکومتی نمائندوں کے خلاف لگنے والے بدعنوانی کے الزامات بھی ہیں اور ایک ایسی سرکاری نیلامی میں کی جانے والی مبینہ دھاندلی اور بدعنوانی بھی، جس کی مالیت قریب چالیس بلین ڈالر بنتی ہے۔

Minderheiten in Indien

بھارتی مخلوط حکومت میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی ہے

بھارت میں موجودہ مخلوط حکومت میں کانگریس پارٹی سب سے بڑی جماعت ہے۔ اس کو حاصل عوامی تائید میں حالیہ دنوں میں جو واضح کمی ہوئی ہے، اس میں بیسیوں ارب ڈالر مالیت کا ایک ٹیلی کام اسکینڈل بھی شامل ہے، گزشتہ برس اکتوبر میں کامن ویلتھ گیمز کی تیاریوں کے حوالے سے بدعنوانی کے الزامات بھی اور سرکاری سودوں میں کمیشنوں کا ایک ایسا اسکینڈل بھی، جس کا تعلق بھارتی وزارت دفاع کے ایک پچیس برس پرانے لیکن بہت بڑے خریداری معاہدے سے ہے۔

اس عوامی جائزے کے مطابق اس وقت اگر بھارت میں الیکشن کرائے جائیں، تو کانگریس پارٹی، جس کی پارلیمان میں نشستوں کی موجودہ تعداد 206 ہے، تقریباﹰ 40 نشستوں سے محروم ہو جائے گی اور یوں اسے حاصل پارلیمانی اکثریت بھی باقی نہیں رہے گی۔

اس سروے میں 44 فیصد رائے دہندگان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ کی ساکھ ماضی میں کبھی متاثر نہیں ہوئی تھی، لیکن موجودہ حالات میں ان کی ساکھ بھی ان اسکینڈلوں سے کافی متاثر ہوئی ہے۔

اس سروے کے لیے، جس کا اہتمام اے سی نِیلسن نامی کمپنی نے بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے کے لیے کیا، گزشتہ ماہ دو ہفتے کے عرصے کے دوران بھارت کی 19 ریاستوں میں 13300 سے زائد شہریوں سے ان کی رائے دریافت کی گئی۔

بھارت میں اپوزیشن کی طرف سے حکمران جماعت کانگریس پارٹی سے متعلق بدعنوانی کے متعدد اسکینڈلوں کے خلاف احتجاج اور مظاہروں کے باعث ملکی پارلیمان گزشتہ برس نومبر سے تقریباﹰ مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔

اب یہ امکان بھی پیدا ہو گیا ہے کہ ملک میں اس جمود کے خاتمے کے لئے ممکنہ طور پر موجودہ منتخب پارلیمان کی پانچ سالہ مدت پوری ہونے سے قبل ہی نئے عام انتخابات بھی کرائے جا سکتے ہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس