1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت میں ’چائلڈ لیبر‘ قانون، انسانی حقوق کی تنظیموں کے تحفظات

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے خدشات کے باوجود بھارت کی پارلیمنٹ نے ایک ایسا متنازعہ بل منظور کر لیا ہے، جس کے تحت بچوں کو خاندانی کاروبار میں کام کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں تین دہائیوں سے عائد چائلڈ لیبر قوانین میں ترامیم کو بھارت کی قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں نے ہی منظور کر لیا ہے۔ اب یہ بل بھارت کے صدر کے دستخط کے بعد قانون کی شکل اختیار کر جائے گا۔

اس بل میں کی جانے والی دو ترامیم پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بہبود اطفال یونیسیف اور دیگر تنظیموں نے اعتراض کیا ہے۔ ان ترامیم کے ذریعے اب فیملی بزنس میں بچوں سے کام کروایا جا سکے گا اور نوجوانوں کے لیے ایسے کئی کاموں پر سے پابندی ہٹا دی گئی ہے جو پہلے ان کے لیے ممنوع تھے۔

سن 2015 میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ’انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن‘ کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں 5 سے 17 سال کی عمر کے 5.7 ملین بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ عالمی سطح پر ایسے بچوں کی تعداد 168 ملین ہے۔

بھارت میں کام کرنے والے بچوں میں سے نصف ذراعت کے شعبے میں مشقت کرتے ہیں اور ایک چوتھائی بچے کپڑوں پر کڑھائی، کارپٹ کی بنائی، ماچس کی تیلیاں بنانے، ریستورانوں میں کام کرنے اور لوگوں کے گھروں میں ملازم کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔

اس نئے قانون کے تحت 14 سال سے کم عمر بچوں پر کسی بھی طرح کی مزدوری یا کام پر عائد پابندی میں توسیع کر دی گئی ہے۔ ماضی میں یہ پابندی صرف 18 انتہائی خطرناک شعبوں اور 65 دیگر کاموں جیسے کہ سیمینٹ بنانے، کان کنی وغیرہ پر عائد تھی۔ موجودہ بل کے مسودے کے تحت وہ افراد جو بچوں کو ملازمت پر رکھیں گے انہیں دو سال تک کی قید اور 50 ہزار روپے تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بل کی ان شقوں کا خیر مقدم کیا ہے۔

دوسری جانب بل میں کچھ ایسی شقیں بھی ہیں، جنہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بل کی ایک شق کے تحت اسکول کے اوقات کے بعد اور چھٹیوں کے دوران بچے اپنے خاندان کے کاروبار میں کام کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ بچوں کو کھیل اور انٹرٹینمینٹ انڈسٹری میں بھی کام کرنے کی اجازت ہو گی اگر اس سے ان کی پڑھائی متاثر نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ 15 سے 18 سال کے بچے کان کنی اور انتہائی خطرناک صنعتی شعبوں کے علاوہ دیگر کام کرسکیں گے۔

اس حوالے سے بھارت کی حکومت کا موقف ہے کہ انہوں نے بچوں کی تعلیمی ضروریات اور بھارت کی معاشی حالات کے پیش نظر اس قانون میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ غربت کے باعث بھارت میں بہت سے والدین ذراعت، یا کاریگری کے کام میں بچوں پر انحصار کرتے ہیں۔

بھارت کی وزیر برائے انسانی قوت بندارو دتاتیریا نے اس بل کے حوالے سے پارلیمنٹ میں کہا،’’ ہمارا مقصد ہے کہ ہم اس قانون پر عملی طور پر عمل در آمد بھی کر سکیں، اس لیے کچھ حوالوں سے اس بل میں چھوٹ دی گئی ہے۔‘‘

یونیسیف نے اس بل میں بچوں کے اپنے خاندان کے لیے کام کرنے کی شق کو ختم کرنے کا کہا ہے۔ ایک بیان میں یونیسف نے کہا ہے،’’ اس قانون کو مضبوط کرنے اور بچوں کو ایک قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کے خاندانی کاروبار میں کام کرنے پر پابندی عائد کی جائے۔ ایسا کرنے سے بچوں کو استحصال سے بچا جا سکے گا۔‘‘

DW.COM