1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت میں ٹیکس اصلاحات: قانونی بل پارلیمان میں

بھارتی حکومت نے نئی دہلی کی پارلیمان میں ملک میں ٹیکسوں کے نظام میں اصلاحات سے متعلق ایک قانونی بل پیش کر دیا ہے۔ اس موقع پر اپوزیشن کی طرف سے پارلیمان کی کارروائی میں خلل ڈالنے کی کوشش کی گئی۔

default

بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ

اپوزیشن نے وزیر اعظم من موہن سنگھ پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے نقد رقوم کے بدلے ووٹ خریدنے کے اسکینڈل سے متعلق پارلیمان میں جھوٹ بولا تھا۔ اس بل کے ذریعے من موہن سنگھ حکومت بھارت میں ٹیکسوں کے شعبے میں وسیع تر اصلاحات متعارف کرانا چاہتی ہے۔ اس بل کے نتیجے میں ممکنہ طور پر پورے ملک میں اشیاء اور خدمات پر ٹیکس بھی لگایا جا سکے گا۔ جسے GST کا نام دیا جا رہا ہے۔

اس طرح بھارت میں تجارتی اور کاروباری اداروں کے اخراجات میں کمی کرنے میں مدد ملے گی اور حکومت کی ٹیکس کی مد میں ہو نے والی آمدنی میں بھی اضافہ ہو سکے گا۔ اس قانونی بل کی صوبوں کی سطح پر بھی مخالفت کی جارہی ہے اور مرکزی سطح پر اپوزیشن کی بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی بی جے پی کی طرف سے بھی۔

Bharatiya Janata Party Partei Indien Yediyurappa

اس قانونی بل کی مخالفت اپوزیشن کی بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے بھی کی جا رہی ہے

نئی دہلی سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اس کا مطلب یہ ہو گا کہ پہلے ہی دو سال کی تاخیر سے پیش کی جانے والی ٹیکسوں کے بارے میں قانون سازی کی اس تجویز پر پروگرام کے مطابق اس سال اپریل تک عمل درآمد نہیں کیا جا سکے گا۔

اس بل کی منظوری کے لیے بھارتی حکومت کو پارلیمان میں دو تہائی ارکان کی حمایت درکار ہو گی۔ اس کے علاوہ پارلیمان میں منظوری کی صورت میں قانون بننے سے پہلے اس مسودہ ء قانون کی بھارت کے کل28 صوبوں میں سے نصف کی طرف سے حمایت بھی لازمی طور پر درکار ہو گی۔ آج منگل کو اس مسودہ ء قانون کے پیش کیے جانے کے موقع پر اپوزیشن جماعت BJP کی طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ پارلیمان میں اس بارے میں بحث ہونی چاہیے کہ آیا وزیر اعظم من موہن سنگھ نے ایوان کو دانستہ طور پرگمراہ کیا تھا۔

BJP نے یہ مطالبہ وکی لیکس کی جاری کردہ ان کیبلز کے حوالے سے کیا جن میں کہی گئی باتوں کی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے تردید کر دی تھی۔

وکی لیکس کی ان کیبلز میں دعوٰی کیا گیا تھا کہ 2008 میں اپنی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی ایک تحریک کو ناکام بنانے کے لیے من موہن سنگھ حکومت نے ارکان پارلیمان کو رشوت کی بڑی بڑی رقوم ادا کی تھیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس