1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت میں نیپالی خواتین کا ’گینگ ریپ‘: سعودی سفیر کی طلبی

نئی دہلی کے نواح میں ایک سعودی سفارت کار کی حبس بےجا کے دوران دو نیپالی ملازماؤں سے مہینوں تک مبینہ جنسی زیادتیوں کا معاملہ پھیل گیا ہے۔ اس بارے میں بھارتی وزارت خارجہ نے سعودی سفیر کو وضاحت کے لیے طلب کر لیا۔

بھارتی دارالحکومت سے جمعرات دس ستمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق نئی دہلی میں ملکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے آج بتایا کہ سعودی عرب کے بھارت متعینہ سفیر کو اس لیے طلب کیا گیا کہ شدید نوعیت کے ان قانونی الزامات کی چھان بین میں مدد لی جا سکے، جن کے تحت ایک سعودی سفارت کار اور اس کے مہمانوں کی طرف سے نئی دہلی کے قریب گڑ گاؤں میں ایک فلیٹ پر دو نیپالی ملازماؤں کے ساتھ بار بار جنسی زیادتیاں کی جاتی رہیں۔

ان خواتین کی عمریں تیس اور پچاس برس بتائی گئی ہیں اور پولیس نے اس بارے میں جو مقدمہ درج کیا ہے، اس کے مطابق متعلقہ سعودی سفارت کار نے اپنی ان دونوں نیپالی گھریلو ملازماؤں کو قریب تین ماہ تک نہ صرف گڑ گاؤں میں ایک گھر پر قید رکھا بلکہ اس دوران ان پر تشدد کرنے اور انہیں اکثر بھوکا رکھنے کے علاوہ ان کا بار بار ریپ بھی کیا گیا۔ ان خواتین کا الزام ہے کہ اس دوران اس سعودی سفارت کار نے، جس کا نام نہیں بتایا گیا، اپنے مہمانوں کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر ان کا گینگ ریپ بھی کیا۔

نئی دہلی میں وزارت خارجہ کے ترجمان ویکاس سواروپ نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا، ’’وزارت خارجہ نے سعودی سفیر سعود محمد الستی تک پولیس کی یہ درخواست پہنچا دی ہے کہ دو نیپالی شہریوں کی طرف سے درج کرائے گئے مقدمے میں سعودی سفارت خانہ پولیس کے ساتھ تعاون کرے۔‘‘

یہ مقدمہ درج کرائے جانے کے بعد پولیس نے کل بدھ کو رات گئے کہا تھا کہ اس حقیقت کے باوجود کہ سعودی اہلکار کو سفارتی مامونیت حاصل ہے، پولیس کے تفتیشی ماہرین اپنی چھان بین جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دریں اثناء نئی دہلی میں سعودی سفارت خانے کی طرف سے یہ کہا جا چکا ہے کہ اس سلسلے میں نیپال کی شہری دو گھریلو خادماؤں کی طرف سے لگائے گئے تمام ’الزامات بے بنیاد ہیں، جو نہ صرف جھوٹ پر مبنی ہیں بلکہ ابھی تک ثابت بھی نہیں ہوئے‘۔

Symbolbild Protest gegen Vergewaltigungen in Indien

سعودی سفارت خانے کے مطابق نیپال کی شہری دو گھریلو خادماؤں کی طرف سے لگائے گئے تمام ’الزامات بے بنیاد ہیں

بھارتی میڈیا کے مطابق جس سعودی سفارت کار کے خلاف حبس بےجا، تشدد اور جنسی زیادتیوں کے الزامات لگائے گئے ہیں، وہ اب نئی دہلی کے نواح میں گڑ گاؤں میں متعلقہ فلیٹ سے سعودی سفارت خانے میں منتقل ہو گیا ہے۔ اے ایف پی نے لکھا ہے کہ دونوں نیپالی خادمائیں اب واپس نیپال میں اپنے گھروں کو لوٹ چکی ہیں۔

حکام کے مطابق ان دونوں نیپالی خواتین کو گزشتہ پیر کو رات گئے پولیس نے سعودی سفارت کار کے فلیٹ پر چھاپہ مار کر رہا کروایا تھا اور ان کی رہائی ایک ایسی تیسری ملازمہ کی وجہ سے ممکن ہو سکی تھی، جس نے ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم کو ان خواتین پر کیے جانے والے تشدد اور جنسی زیادتیوں کے بارے میں آگاہ کر دیا تھا۔