1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت میں نئے ٹیکس ضوابط، لوگ پریشان اور دوکاندار الجھن میں

یکم جولائی سن 2017 سے بھارت میں ٹیکس نظام میں وسیع تر تبدیلیوں کی حامل اصلاحات کو نافذ کر دیا گیا ہے۔ ان اصلاحات کے نفاذ کا اعلان جمعہ 30 جون اور ہفتہ یکم جولائی کی درمیانی شب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا۔

بھارتی پارلیمنٹ کے مرکزی ہال سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے اپنی انتخابی مہم کا ایک اہم وعدہ پورا کرتے ہوئے ملکی ٹیکس سسٹم کو ایک نئی ہیت دینے کا اعلان کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس جی ایس ٹی کا نفاذ ملکی کاروبار کی منڈی میں یک رنگی اور ایک سنگل مارکیٹ کے جنم لینے میں مددگار ہو گا۔

نصف شب کے قریب ہونے والی اِس خصوصی تقریب کا بائیکاٹ بھارت کی اپوزیشن پارٹیوں نے کر رکھا تھا۔ ان میں مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس کے علاوہ ریاست مغربی بنگال پر حکومت کرنے والی ترنمول کانگریس خاص طور پر نمایاں تھیں۔

آج ہفتہ پہلی جولائی کو بازاروں میں دوکانیں اور شاپنگ مارکیٹیں کھلی ہیں لیکن ان کو غیریقینی صورت حال کا سامنا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اسی غیر یقینی صورت حال پر اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ نئے ٹیکس ضوابط کا اطلاق کر دیا گیا ہے لیکن عام دوکانداروں کو اس نظام کی سمجھ ابھی تک نہیں آئی ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ ان ٹیکس ضوابط کے لاگو ہونے سے بازار میں دستیاب ہر شے کی قیمت میں تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے ایک میڈیکل اسٹور کے مالک منیش اروڑا کا کہنا ہے کہ اس ٹیکس سسٹم نے سب پر بےیقینی کی چادر پھیلا دی ہے اور کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ کیا کریں۔ اروڑا نے بتایا کہ فی الحال وہ تمام دوائیں پرانی قیمت پر ہی فروخت کر رہے ہیں۔

Indien Narendra Modi, Pranab Mukherjee und Hamid Ansari in Neu-Delhi (picture-alliance/AP Photo/M. Swarup)

نریندر مودی ٹیکس اصلاحات کا اعلان کرنے کے لیے جاتے ہوئے

ٹیلی وژن بیچنے والے ایک دوکاندار بلبیر سنگھ کا کہنا ہے کہ اُن کے زیادہ تر گاہک کم مراعات یافتہ اور دیہات سے تعلق رکھتے ہیں، اُن کو اِس نئی صورت حال کی کوئی معلومات اور خبر نہیں اور وہ بھی انہیں تفصیل سے بیان کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ انہیں بھی پوری آگہی حاصل نہیں۔

بھارتی اپوزیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ نئے ٹیکس سسٹم سے اگلے دو سے تین ماہ کے دوران بازاروں میں مندی کا رجحان پیدا ہو گا اور کاروبار میں ساٹھ فیصد تک کی گراوٹ یقینی ہے۔ اپوزیشن کے مطابق اس باعث حکومتی خزانے کو شدید نقصان ہو گا۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ابتدائی گراوٹ سمجھ میں آتی ہے لیکن جب یہ نظام پوری طرح نافذ ہو جائے گا اور عام لوگوں کی سمجھ میں آ جائے گا تو ملکی معیشت ترقی کرے گی اور مسلسل بہتری پیدا ہو گی۔ حکومتی اندازوں کے مطابق ٹیکس نظام میں رد و بدل سے سارے ملک میں اشیاء کی قیمتیں یکساں ہوں گی اور یہ عام لوگوں کے لیے باعثِ راحت اور ملکی اقتصادیات کو مستحکم کرے گا۔