1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت میں میڈیا کتنا آزاد ہے؟

بھارت یوں تو دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے۔ یہاں کئی بڑے میڈیا ہاؤسز ہیں، سینکڑوں ٹیلی وژن چینل ہیں اور ہزاروں اخبارات شائع ہوتے ہیں۔ مغربی ملکوں کے متعدد میڈیا اداروں کے جنوبی ایشیا کی بیوروز بھی بھارت میں ہی ہیں۔

default

بھارت میں مختلف زبانوں کے اخبارات کی روزانہ اشاعت غیر معمولی حد تک زیادہ ہے

وسطی بھارت کے چھتیس گڑھ صوبے کے دارالحکومت رائے پور میں پچھلے دنوں امیش راجپوت نامی ایک صحافی کو دو نقاب پوش بندوق برداروں نے ان کی رہائش گاہ کے باہر گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ راجپوت ہندی روزنامہ نئی دنیا کے رپورٹر تھے۔ انہوں نے آنکھوں کے آپریشن کے دوران ڈاکٹروں کی بے احتیاطی کے سبب ایک شخص کی ایک آنکھ ضائع ہوجانے کی خبرشائع کر دی تھی، جس کے بعد سے ہی انہیں جان سے ماردینے کی دھمکیاں ملنے لگی تھیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے بھی اس قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات اظہار رائے کی آزادی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور بھارتی حکومت کو اس پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔

Journalisten in Gefahr

بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر کا دورہ کرنے والے صحافیوں کی ایک ٹیم

امیش راجپوت کا قتل بھارت میں کسی صحافی کے قتل کا پہلا واقعہ نہیں ہے ۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ)کے مطابق 1992 سے اب تک بھارت میں 16 صحافی مارے جاچکے ہیں۔ ان میں سے 50 فیصد سیاسی گروپوں کے ہاتھوں، 19 فیصد جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں اور چھ فیصد نیم فوجی دستوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ بڑے شہروں میں صحافت کا پیشہ گلیمرس سمجھا جاتا ہےمگر ملک کے دور دراز علاقوں میں صحافیوں کو شدید مشکلات، دباؤ اور پریشانیوں میں کام کرنا پڑ تا ہے۔

CPJ کے ایشیا کے لیے کوارڈینیٹر باب ڈائز کہتے ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں صحافیوں کے لیے مشکلات میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوکہ بھارت آزاد اور گوناگوں میڈیا کے لیے جانا جاتا ہے، لیکن بڑے شہروں سے باہر رہنے والے اور چھوٹے شہروں میں کام کرنے والے صحافیوں کو تشدد اور خطرات کا مسلسل سامنا رہتا ہے۔

Arundhati Roy 2010

بھارت میں ارون دتی رائے بھی میڈیا کی آزادی کی بہت بڑی حامی ہیں

اترپردیش کے لکھیم پور کھیری میں ہندی روزنامہ’ امراجالا ‘ کے نامہ نگار سمیع الدین نیلو بہرحال خوش قسمت تھے کہ پولیس کے ہاتھوں ’انکاونٹر‘ ہونے سے بچ گئے۔سمیع الدین نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ضلع میں پولیس کی زیادتیوں اور سرکاری محکموں میں بدعنوانیوں سے متعلق کئی خبریں شائع کیں جس کے بعد بعض افسران اور ملازمین کے خلاف کارروائی بھی ہوئی۔

اس سے انتظامیہ ان سے ناراض ہوگئی اور منہ بند رکھنے یا سنگین نتائج کے لیے تیار رہنے کی دھمکی دی گئ۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہیں یہ اندازہ ہوگیا کہ انہیں جھوٹے الزام میں پھنسانے یا جان سے مارنے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے، تو انہوں نے اس سلسلے میں ریاست کے اعلی افسران اور حقوق انسانی کمیشن کو ایک درخواست دی۔

Zeitungsleser Bombenanschlag in Bombay

ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے اگلے روز کے ایک بھارتی اخبار کا ٹائٹل پیج

اس کے ایک ہفتے کے بعد ہی پولیس والوں نے ایک رات ان کو اغوا کر لیا اور ’انکاونٹر‘ میں مارنے کی کوشش کی لیکن جب انہیں یہ پتہ چلا کہ”میں نے اپنی شکایت پہلے ہی اعلٰی حکام اور حقوق انسانی کمیشن میں کردی ہے تو پولیس والوں نے جان سے مارنے کے بجائے جھوٹے الزام میں جیل میں ڈال دیا ۔‘‘ بہرحال صحافیوں کی کوششوں کے بدولت انہیں بعد میں جیل سے رہائی نصیب ہوگئی۔

چھتیس گڑھ کے ڈاکٹر راجا رام ترپاٹھی نے بھی ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ انہوں نے قبائلی علاقے بستر سے جب اپنے چار دوستوں کے ساتھ مل کر ایک ہفت روزہ بستر ٹائمز شروع کیا اور ایک قبائلی خاتون کی عصمت دری کی رپورٹ شائع کی تو سیاست دانوں سمیت مختلف حلقوں سے اتنا زبردست دباؤ پڑا کہ ان کا ایک ساتھی خودکشی کرنے پر مجبور ہوگیا جب کہ دوسرا ساتھی کہیں روپوش ہوگیا، جس کا آج تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔

صحافیوں پر اس طرح کے بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کے مدنظر میڈیا سے وابستہ تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تمام تر اقدامات کرے تاکہ بھارت میں آزاد میڈیا کا پرچم بلند رہ سکے۔ انڈین فیڈریشن آف ورکنگ جرنلسٹس کے صدر وکرم راؤ نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے شہروں اور قصبات میں اور بالخصوص انتہاپسندی سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو دوہری مصیبت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ایک طرف انتظامیہ کا دباؤ رہتا ہے تو دوسری طرف انتہاپسند تنظیمیں انہیں دھمکاتی رہتی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے بالخصوص Conflict Areas میں کام کرنے والے صحافیوں کے لیے Risk Insurance کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

رپورٹ : افتخار گیلانی،نئی دہلی

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس