1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

بھارت میں مینڈکوں کی ایک نئی قسم دریافت

بھارت میں روشن رنگوں کی حامل مینڈکوں کی ایک نئی قسم دریافت کی گئی ہے۔ یہ دریافت جنوبی بھارت میں عمل میں آئی۔ اس نئی قسم کو راؤرچیسٹیس ریسپلینڈرنز کا نام دیا گیا ہے۔

default

فائل فوٹو

سرخی مائل نارنجی رنگ کی اس مینڈک کی دریافت مغربی گھاٹ نامی پہاڑی سلسلے میں قائم اراویکلم نیشنل پارک میں ہوئی ہے۔ سطح سمندر سے دو ہزار چھ سو اٹھانوے میٹر بلند پہاڑی انائی مودی کی چوٹی پر پائی جانے والے یہ مینڈک صرف اس تین مربع کلومیٹر کے علاقے ہی میں پائے گئے ہیں۔ اس دریافت کا سہرا دہلی یونیورسٹی کے ماحولیاتی مطالعہ کے شعبے کی ٹیم کے سر ہے۔ اس ٹیم کی قیادت ڈاکٹر ایس ڈی بجو کر رہے تھے۔ اس ٹیم میں بھارت کی دیگر جامعات کے محققین کے علاوہ یورپی سائنسدان بھی شریک تھے۔

ڈاکٹر بجو کے مطابق سن 2001ء میں پہلی مرتبہ اس مینڈک کو دیکھا گیا تھا اور اس کے تیز رنگوں کی وجہ سے اس پر تحقیق کی گئی تھی اور اس تقریبا دس سالہ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ یہ مینڈکوں کی ایک ایسی نادر قسم ہے، جس سے دنیا ابھی تک واقف نہیں تھی۔ ڈاکٹر بجو کے مطابق : ’’یہ نئی قسم کا مینڈک انہتائی چھوٹے بازوں اور کثیر غدودوں کا حامل ہے اور اس میں پھولنے کی صلاحیت عام مینڈک جیسی ہے۔‘‘

اس قسم کو ٹری فروگ گروپ کے ان یہ مینڈکوں میں شامل کیا گیا ہے، جنہیں میکرو گلینڈ والے مینڈک گردانا جاتا ہے۔ ابھی تک اس مینڈک میں پائے جانے والے ان غدودوں کی وجوہات کا علم نہیں ہو سکا ہے۔ سائنسدان اب ان کثیر غدودوں کی افادیت پر تحقیق کریں گے۔ اسے ایک نئی قسم کا مینڈک قرار دینے کی وجہ اس کا دوسرے قسم کے مینڈکوں سے مختلف نظام تنفس ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا میں مینڈکوں کی تقریبا 200 اقسام پائی جاتی ہیں۔ اس مینڈک کے مختلف نظام تنفس کی جانچ میں تقریبا سات برسوں کا عرصہ لگا۔

اس مینڈک کا نام Raorchestes resplendens ہے جس کا پہلا حرف اس تحقیق میں اپنی زندگی صرف کرنے والے مرحوم بھارتی سائنسدان سی آر نرائن راؤ کے نام سے لیا گیا ہے، جبکہ اس نئی قسم کے مینڈک کے نام کا دوسرا حرف لاطینی لفظ گلیٹرنگ سے اخز کیا گیا ہے، جس کے معنی ہیں روشن و رنگین۔ اس لفظ کی وجہ اس مینڈک کے جسم پر پائی جانے والے سرخ اور نارنجی دھاریاں ہیں، جو اسے مینڈکوں کی دوسری اقسام سے مختلف بناتی ہیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : شادی خان سیف