1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت میں مڈل کلاس کی خوشحالی میں اضافہ

بھارت کے سرفہرست کارساز اداروں نے گزشتہ ماہ کے دوران خوب کاروبار کیا۔ اس کاروباری تیزی کو بھارت میں مڈل کلاس کی خوشحالی میں اضافے کے ثبوت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

default

دنیا کی سب سے سستی موٹر گاڑی بنانے کا دعویٰ کرنے والی ٹاٹا کمپنی کی بِکری میں سو فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 'لکھ ٹکیہ' کار کے نام سے مشہور ٹاٹا کمپنی کی گاڑی نینو کی قیمت سوا لاکھ بھارتی روپے سے شروع ہوتی ہے۔

2009ء میں متعارف کرائی گئی 'دنیا کی سب سے سستی گاڑی' کے اس سال ایک ماہ میں آٹھ ہزار سے زائد یونٹ فروخت ہوئے، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران فروخت ہونے والی ایسی گاڑیوں کی تعداد کے مقابلے میں 101 فیصد زیادہ ہے۔

Hyundai Sonata

ایک آٹو شو میں جاپانی گاڑیاں پیش کی جارہی ہیں

بھارت میں مسافر بردار گاڑیاں بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ماروتی سوزوکی، جو جاپانی ملکیت ہے، نے ایک لاکھ سے زائد یونٹ فروخت کیے۔ اس اعتبار سے ماروتی سوزوکی برانڈ کی سیل میں 15.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ امریکی کمپنی فورڈ کے ذیلی ادارے فورڈ انڈیا نے سیل میں لگ بھگ دو سو فیصد اضافہ ظاہر کیا ہے۔

فورڈ انڈیا کے ماڈل فیگو کو سب سے زیادہ پسند کیا گیا، جس کے قریب دس ہزار یونٹ فروخت ہوئے۔ ایک مقامی کار ساز ادارے مہندرا اینڈ مہندرا نے بھی اپنی گاڑیوں کی سیل میں 20 فیصد اضافے کی اطلاع دی ہے۔

اگرچہ بہت سے ملازمت پیشہ بھارتی شہری ٹاٹا نینو کو اپنی نجی سواری کے طور پر اپنا چکے ہیں تاہم مقبولیت کے اعتبار سے یہ گاڑی اب بھی ماروتی آلٹو سے پیچھے ہے۔ متوسط طبقے کے لیے نینو بنانے والی بھارتی کمپنی ٹاٹا موٹرز کے تحت امراء کے لیے برطانوی پرتعیش گاڑیاں Jaguar اور Land Rover بھی درآمد کی جاتی ہیں۔ اس اعتبار سے ٹاٹا کمپنی کی سیلز میں مجموعی طور پر 18 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

Indien Auto EXPO in Neu Delhi 2010 Flash-Galerie

ٹاٹا موٹرزکے مالک رتن ٹاٹا جیگوار کے ایک نئے ماڈل کی تعارفی تقریب میں برطانوی تاجروں کے ہمراہ

ان گاڑیوں کے علاوہ مسافر بردار اور کمرشل گاڑیوں کی سیل سے بھی بھارت میں اقتصادی خوشحالی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کے خیال میں فروری سے قبل موٹر گاڑیوں کی سیل میں اضافے کی ایک وجہ بجٹ میں ٹیکس اضافے کے خدشات بھی تھے۔ تاہم ملکی وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے جو بجٹ پیش کیا ہے، اس میں گاڑیوں پر ایکسائز ٹیکس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

اب بھی بھارت کی شہری آبادی میں ہر دس میں سے محض ایک جبکہ دیہی آبادی میں ہر 50 میں سے ایک گھر میں گاڑی ہے۔ اسی بناء پر گاڑیاں بنانے والی بڑی بین الاقوامی کمپنیاں بھارت کو مستقبل کی ایک بڑی منڈی کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس