1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

'بھارت میں مقدس مانے جانے والے دریا ’زندہ انسان‘ نہیں‘

بھارتی سپریم کورٹ نے اُس عدالتی فیصلے کو روکنے کا حکم دیا ہے جس کے مطابق بھارت میں مقدس سمجھےبجانے والے دریاؤں کو زندہ مانتے ہوئے وہی قانونی حقوق دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا جو انسانوں کو حاصل ہوتے ہیں۔

Indien Ganges ghats von Haridwar (DW/R. Chakraborty)

 ماہرین ماحولیات نے اس عدالتی حکم کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے دونوں دریاؤں کو صاف کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی

شمالی بھارتی ریاست  اتر آکھنڈ کی ایک عدالت نے رواں برس مارچ میں ایک فیصلہ دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ انڈیا میں مقدس گردانے جانے والے دو دریاؤں، گنگا اور جمنا میں کوڑا کرکٹ پھینکنے یا انہیں کسی طرح کا نقصان پنہچانے والے افراد کو وہی سزائیں دی جا سکیں گی جو کسی انسان کو تکلیف دینے پر دی جاتی ہیں۔

 ماہرین ماحولیات نے اس عدالتی حکم کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے انتہائی آلودہ ان دونوں دریاؤں کو صاف کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

 دریائے گنگا میں آلودگی اور اس پر تجاوزات کے قیام کے حوالے سے پٹیشن دائر کرنے والے وکیل منوج چندرا پنٹ نے فون پر جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا،’’ آج کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ دونوں دریاؤں کے حوالے سے اتھر کھنڈ کے عدالتی حکم نامے کو نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ بھارتی عدالت عالیہ نے ہمیں اس معاملے پر جواب دینے کے لیے تین ہفتوں کا وقت دیا ہے جس کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ کیا جا سکے گا۔‘‘

مارچ میں  اتر آکھنڈ  کی ہائی کورٹ کی جانب سے جاری ہونے والا فیصلہ نیوزی لینڈ میں دریائے وانگونائی کو زندہ وجود قرار دینے کی عدالتی رولنگ کے بعد سامنے آیا تھا۔ بھارتی میڈیا رپورٹوں کے مطابق  اتر آکھنڈ کی حکومت نے اس حکم نامے کو گزشتہ ماہ یہ کہتے ہوئے چیلنج کیا تھا کہ قانون کی رُو سے یہ ممکن نہیں۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات