1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت میں ماؤ نواز باغی دو یرغمالیوں کی رہائی پر تیار

بھارتی ریاست اڑیسہ کی حکومت کی طرف سے ماؤ نواز باغیوں کی متعدد شرائط تسلیم کئے جانے کے بعد باغی اغواء کیے گئے دو حکومتی عہدیداروں کی رہائی پر آمادہ ہو گئے ہیں۔

default

بھارتی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق ملکان گری ضلع سے تعلق رکھنے والے اڑیسہ کے سینئر سرکاری عہدیدار ونیل کرشنا اور انجنیئر پبریتا ماجھی کو 16فروری کو اس وقت اغوا کر لیا گیا تھا، جب وہ قبائلی علاقے میں مقامی رہائشیوں سے ملاقات کے بعد لوٹ رہے تھے۔

ان دونوں افسران کی رہائی کے لیے ماؤنوازوں نے ہرگوپال نامی ایک شخص کو بطور ثالث تجویز کیا تھا۔ IANS خبرایجنسی کے مطابق ہرگوپال نے منگل کی شام اڑیسہ میں اپنے ایک بیان میں کہا کہ ماؤنواز ان یرغمالیوں کو اگلے 48 گھنٹوں میں رہا کر دیں گے۔

Indische Paramilitärs gegen Maoistische Rebellen

بھارتی فورسز کئی علاقوں میں ماؤنوازوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں

ان افراد کی رہائی کے لیے ریاستی حکومت نے ماؤنوازوں کی متعدد شرائط تسلیم کیں ہیں، جن میں چند زیرحراست قبائلی حامیوں کی رہائی اور علاقے میں ماؤنوازوں کے خلاف حکومتی آپریشن کی بندش شامل ہے۔ ماؤنواز تین روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد ان اہلکاروں کی رہائی پر آمادہ ہوئے ہیں۔ حکومت سے مذاکرات کا آغاز اتوار کے روز ہوا تھا۔

واضح رہے کہ بھارت کے 626 اضلاع میں سے ایک تہائی سے زائد ماؤنواز باغیوں کی کارروائیوں سے متاثر ہیں۔ باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد غریب عوام کےحقوق کے لیے کر رہے ہیں۔

گزشتہ برسوں کے دوران ماؤنوازوں کے زیراثر علاقوں میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سن 2010ء اس حوالے سے گزشتہ چار دہائیوں کا سب سے خونریز سال رہا۔ اس دوران ماؤنوازوں اور حکومتی فورسز کے درمیان ہونے والی متعدد جھڑپوں میں باغیوں، سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں سمیت 1174 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بھارتی وزیراعظم اس سے قبل اپنے ایک بیان میں ماؤنوازوں کو ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے چکے ہیں اور بھارتی حکومتی متعدد مقامات پر ماؤنوازوں کے خلاف آپریشن میں بھی مصروف ہے، تاہم ان علاقوں میں باغیوں کی بھرپور قوت اور عام شہریوں کی ’حمایت‘ کے باعث سکیورٹی فورسز کوکوئی بڑی کامیابی ابھی تک حاصل نہیں ہو پائی ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس