1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت میں لیبیا کے سفیر کا احتجاجی استعفیٰ

بھارت میں متعین لیبیا کے سفیر نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے ہم وطن مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کی ’بڑے پیمانے پر‘ کارروائیوں اور ’ناقابل قبول‘ تشدد کے سبب اپنی ذمہ داریوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔

default

نئی دہلی میں لیبیا کے سفیر علی العیسوی نے منگل کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ عام شہریوں کے خلاف طاقت کے بے دریغ استعمال نے انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔

’’گزشتہ روز حکومت نے مظاہرین کے خلاف جنگی طیاروں کے ذریعے بمباری بھی کی اور یہ ایک قطعی ناقابل قبول اقدام ہے۔‘‘

Unruhen in Libyen

لیبیا کے متعدد سفارت کاروں نے عوام کے خلاف طاقت کے بے دریغ استعمال کی مذمت کی ہے

گزشتہ برس اکتوبر میں نئی دہلی میں بطور سفیر متعین کیے گئے لیبیا کے سفارت کار علی العیسوی نے مطالبہ کیا کہ نیویارک میں آج منگل کے روز بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں لیبیا میں ’نو فلائی زون‘ کے قیام کا اعلان کیا جائے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل سن 1991ء میں خلیجی جنگ کے موقع پر بھی عالمی ادارے کی طرف سے صدام حسین کی حکومت کے خلاف عراق بھر میں جہازوں کی پروازوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا، ’عالمی برادری کو لیبیا کے عوام کے تحفظ کے لیے ہر صورت میں مداخلت کرنی چاہیے۔‘ علی العیسوی کے مطابق قدافی حکومت عوام میں اپنی مقبولیت کھو چکی ہے اور اب وہ کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔

العیسوی، جو اس سے قبل لیبیا کی ملکی برآمدات کی ترویج کی ایجنسی کے لیے بھی خدمات سر انجام دے چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ انہیں یہ معلوم نہیں کہ اپنے استعفے کے بعد وہ کیا کریں گے۔

’’میں نے اپنے آپ، اپنے خاندان اور اپنے تحفظ کا نہیں سوچا۔ اس وقت معاملہ میرے ملک کے لوگوں کی زندگیوں کی حفاظت کا ہے اور اس معاملے کی سنگینی سے عالمی برادری کو خبردار کرنے کے لیے ہی میں نے یہ قدم اٹھایا ہے۔‘‘

Unruhen in Libyen

قدافی حکومت کے خلاف عام کا احتجاج شدید تر ہوتا جا رہا ہے

دریں اثناء ملائشیا میں قائم لیبیا کے سفارت خانے نے بھی ملک میں عوام کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں پر کڑی تنقید کی ہے۔ سفارت خانے کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں حکومتی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’سفاکانہ‘ قرار دیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق ملائشیا میں لیبیا کی ایمبیسی اپنے ملک کے عوام کے ساتھ ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے، ’ہم بے گناہ عوام کے سفاکانہ اور مجرمانہ قتل عام کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔‘

یہ بیان منگل کے روز اس وقت دیا گیا، جب ملائشیا میں قائم اس سفارتخانے نے وہاں مقیم اپنے ملک کے 200 طالب علموں کے لیے اپنے کمپاؤنڈ کے گیٹ کھول دیے۔

اس موقع پر اس سفارت خانے میں طالب علموں کی طرف سے بھرپور نعرے بازی بھی کی گئی۔ ان طالب علموں کا کہنا تھا، ’قدافی کا کھیل ختم ہو گیا ہے۔‘

دوسری جانب اقوام متحدہ میں لیبیا کے سفارتی مشن نے اپنے ملک کی فوج سے اپیل کی ہے کہ وہ قدافی حکومت کے خلاف کارروائی کرے۔ اقوام متحدہ میں متعین لیبیا کے سفارتی مشن کے نائب سربراہ ابراہیم دباشی نے دنیا بھر میں لیبیا کے سفارتخانوں سے اپیل کی کہ وہ اس موقع پر لیبیا کے عوام کے لیے خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ قدافی حکومت کا فوری خاتمہ انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM