1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت میں قحط سالی کا خطرہ

بھارت میں مون سون کی بے رخی نے حکومت کے لئے شدید مشکلات کھڑی کردی ہیں۔ مون سون میں تاخیر کا معاملہ پارلیمان میں بھی چھایا رہا۔

default

خشک سالی سے بھارت میں پہلے ہی رواں برس خریف کی فصل تباہ ہو چکی ہے

دوسری طرف بھارت میں قحط سالی کے ممکنہ خدشے کے مدنظر حکومت نے حالات سے نمٹنے کے لئے ایک وار روم قائم کردیا ہے۔

وزارت زراعت میں قائم اس وار روم نے آج سے ہی کام کرنا شروع کردیا ہے۔ ماہرین کی نگرانی میں یہ وار روم چوبیس گھنٹے کام کرے گا اور ملک میں مون سون کی آمد میں تاخیر اور بہت کم بارش سے پیدا شدہ حالات اور ممکنہ مسائل کے حل کی کوششیں کرے گا۔

دراصل مون سون کی آمد میں تاخیر نے سب کو پریشان کردیا ہے۔ عام شہریوں اور کسانوں سے لے کر بڑے بڑے صنعت کار اور ممبران پارلیمان بھی بارش نہ ہونے سے پیدا ہونے والی صورت حال سے خوفزدہ ہیں۔ پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں بھی اس مسئلے کی گونج سنائی دی اورپارٹی خطوط سے اوپر اٹھ کرحکمراں اور اپوزیشن دونوں کے ہی ممبران نے اس سنگین صورت حال پر تشویش کا اظہارکیا۔ بعض اراکین نے اسے قومی آفت قراردینے کا بھی مطالبہ کیا۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رکن گرداس داس گپتانے کہا: ’’یہ ایک قومی آفت ہے اور حکومت کو اسے قومی آفت قرار دینا چاہئے۔‘‘

اراکین پارلیمان نے مطالبہ کیا کہ مرکز ریاستوں کے وزراء اعلٰی کی ایک ہنگامی میٹنگ طلب کرے جس میں اس بحران کا جائزہ لے کر اس پر قابو پانے کا طریقہ کار وضع کیا جائے۔ ایوان میں شیو سینا کے لیڈر اننت گیتے نے کہاحالت ایسی ہے کہ اگر بارش ہوتی بھی ہے تب بھی کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا کیوں کہ خریف کی فصل تباہ ہوچکی ہے۔

صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے فرانس اور مصر کے حالیہ دورے پر روانہ ہونے سے چند گھنٹے قبل ایک اعلٰی سطحی میٹنگ میں صورت حال کا جائزہ لیا اور حالات پر نگاہ رکھنے کے لئے ایک اعلٰی اختیاراتی وزارتی گروپ قائم کردیا۔

وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کی صدارت والے اس وزارتی گروپ کو غذا اور اجناس کی فراہمی اور دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ اس آٹھ رکنی وزارتی گروپ میں وزیر زراعت شرد پوار، وزیر دفاع اے کے انٹونی، وزیر داخلہ پی چدمبرم، ریلوے کی وزیر ممتا بنرجی، ٹکسٹائل کے وزیر دیاندھی مارن، کامرس کے وزیر آنند شرما اور دیہی ترقیات کے وزیر سی پی جوشی شامل ہیں۔

پارلیما ن میں یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے جنتا دل یونائٹیڈ کے صدر شرد یاو نے کہا کہ بہار میں قحط جیسی صورت پیدا ہوگئی ہے جب کہ سماج وادی پارٹی کے صدر ملائم سنگھ یادو نے خبردار کیا کہ اگر حالات اسی طرح رہے تو آنے والے مہینوں میں ملک میں خوراک پر خانہ جنگی کی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔ پارلیمان میں اس مسئلے پر 28تاریخ کو تفصیلی بحث ہوگی جس پر حکومت جواب دے گی۔

دریں اثناء شمال مشرقی ریاست آسام کی حکومت نے ریاست کے 14 اضلاع کو خشک سالی جیسی صورت حال سے دوچار قرار دے دیا ہے۔

رپورٹ : افتخار گیلانی، نئی دہلی

ادارت : عاطف توقیر

ملتے جلتے مندرجات