1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

بھارت میں غیرمحفوظ انتقال خون ایڈز کے پھیلاؤ میں معاون

بھارت کی نیشنل ایڈز کنٹرول آرگنائزیشن کے اعداد و شمار کےمطابق ملک میں گزشتہ سترہ ماہ کے دورانیے میں 2000 سے زائد افراد انتقال خون کے باعث ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے ہیں۔

Symbolbild zum Thema HIV-Infektionen in Europa auf Rekordniveau

بھارت کے دیہی علاقوں میں خون کی جانچ کے لیے مناسب اسکرییننگ آلات دستیاب نہیں

ممبئی کے ایک سرگرم عمل سماجی کارکن چیتن کوٹھاری کی جانب سے معلومات کی رسائی کے قانون کے تحت ایڈز کے مریضوں کے بارے میں معلومات کی فراہمی کے لیے عدالت میں دائر کردہ ایک درخواست کے جواب میں بھارت کی سرکاری ایڈز کنٹرول تنظیم نے بتایا کہ اکتوبر 2014 اور مارچ 2016 کے درمیانی عرصے میں 2234 افراد اس مہلک وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔

نیشنل ایڈز کنٹرول آرگنائزیشن نے چیتن کوٹھاری کو ایڈز کے دوسرے شخص میں انتقال سے متعلق مخصوص مدت کے حوالے سے مطلوبہ اعداد وشمار گزشتہ ماہ ارسال کر دیے تھے۔ آج اے ایف پی سے بات چیت کرتے ہوئے کوٹھاری کا کہنا تھا،‍ ’’میں جاننا چاہتا تھا کہ حکومت لوگوں تک صاف خون کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات اٹھا رہی ہے۔ دیے گئے اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بارے میں خاطر خواہ آگاہی کے باوجود خون کو ایچ آئی وی اور ایڈز کے لیے جانچا نہیں جا رہا۔‘‘

بھارت کی سرکاری ایڈز کنٹرول تنظیم کی ویب سائٹ کے مطابق ضرورت مند افراد کے لیے صاف اور محفوظ خون تک رسائی خصوصا دیہی علاقوں میں محدود ہے۔ اس کی وجہ وہاں مناسب اسکریینگ آلات کا نہ ہونا ہے۔

AIDS in Indien

بھارت میں غیر محفوظ خون کا انتقال ایڈز کے مریضوں میں اضافے کا بڑا سبب ہے

اس حوالے سے بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی شمالی ریاست اتر پردیش سر فہرست ہے جہاں 361 افراد ہسپتالوں میں غیرمحفوظ خون کی فراہمی سے ایج آئی وی سے متاثر ہوئے اس کے بعد گجرات اور مہاراشٹرا کی مغربی ریاستیں ہیں جہاں متاثرہ افراد کی تعداد بالترتیب 292 اور 276 ہے۔

دارالحکومت دہلی میں انتقال خون کے ذریعے ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد 264 ہے۔ بھارتی حکومت کے ایک اندازے کے مطابق 1.25 بلین کی آبادی میں سے 2.5 ملین افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہیں۔

بھارت کی ایڈز کنٹرول تنظیم جو کہ بھارت کے محکمہ صحت کے تحت کام کرتی ہے، نے اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا ہے کہ حکومت خون کی اسکریینگ کے عمل کو محفوظ تر بنانے اور ایچ آئی وی کے انتقال کے امکانات کو صفر کرنے کے لیے ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

DW.COM