1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت میں غیرفعال سہل مرگی کی عدالتی اجازت

دنیا کے مختلف ملکوں میں طویل عرصے سے بےحس اور صاحب فراش مریضوں کی مشکل زندگی کے خاتمے کے حوالے سے بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو عالمی سطح پر انتہائی اہم خیال کیا جا رہا ہے۔

default

ایک بے حس اور صاحب فراش مریض

بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا برسوں سے علیل وہ بےحس مریض جو طبی امداد اور نلکیوں سے فراہم کردہ خوراک پر زندہ ہیں، ان کے جسموں سے انہیں زندہ رکھنے والی میڈیکل اور دوسری امدادی سہولیات ہٹائی جا سکتی ہیں تا کہ ایسے مریضوں کو غیر فعال انداز میں سہل موت نصیب ہو سکے۔ بھارتی سپریم کورٹ کا دائمی بے حس اور صاحب فراش مریضوں کے لیے غیر فعال سہل مرگی کی فراہمی سے متعلق یہ فیصلہ عالمی سطح پر خاصا دور رس ہو سکتا ہے۔

بھارتی عدالت عظمیٰ نے یہ فیصلہ 37 سالوں سے بے حس پڑی ایک مریضہ کے حوالے سے سنایا ہے۔ ارونا شین بوگ (Aruna Shanbaug) نامی نرس کو سینتیس برس قبل نوکری کے دوران آبروریزی کا نشانہ بناتے ہوئے اس کا گلا زنجیر سے گھونٹنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد سے وہ بے ہوش اور بے حس ہے۔ ارونا شین بوگ ممبئی کے ایک ہسپتال میں حالت نزع میں برسوں سے زندہ ہے۔ اس نرس کی ایک دوست اور خاتون صحافی پنکی ویرنی نے اس مناسبت سے ہائی کورٹ میں سہل مرگی کی اپیل دائر کی تھی۔ ویرنی کی اپیل اعلیٰ ماتحت عدالت میں مسترد ہو گئی تھی۔

Italien Sterbehilfe Piergiorgio Welby gestorben

سہل مرگی کا اطالوی مریض

ماتحت عدالت نے ویرنی کی درخواست کو براہ راست متاثرہ فریق نہ ہونے کی وجہ یا یہ درخواست مریضہ کی جانب سے نہ ہونے کی بنیاد پر مسترد کر دیا تھا۔ پنکی ویرنی نے اپنی درخواست میں عدالت سے استدعا کی تھی کہ مریضہ کو زبردستی خوراک کی فراہمی بند کر کے اسے غیر فعال انداز میں مرنے دیا جائے۔ ہائی کورٹ میں درخواست مسترد ہونے کے بعد اس مریضہ کی دوست نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ نے بھی ویرنی کی اپیل اسی بنیاد پر مسترد کر دی لیکن اہم اصول ضرور وضع کر دیے۔ عدالت کے مطابق ممبئی کا ہسپتال ارونا کی غیر فعال سہل مرگی کے حوالے سے اپیل دائر کر سکتا ہے۔ اس اہم اور حساس مقدمے کی سماعت سپریم کورٹ کے ایک دو رکنی بینچ نے کی۔ اس بینچ میں جسٹس مارکنڈے کاتجو اور جسٹس سدھا مشرا شامل تھے۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد اس بہت پیچیدہ مقدمے کا فیصلہ سنایا گیا۔

اب دوسرے کئی ہسپتالوں میں موجود ایسے مریضوں کے حوالے سے ڈاکٹر یا نرسنگ سٹاف کو عدالت میں درخواست دائر کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ایسی کسی درخواست میں مریض کے لیے غیر فعال سہل مرگی کے امکان کو ڈاکٹر کی رائے کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر کی سفارش کے باوجود حتمی اجازت عدالت دے گی۔ اس عدالتی حکم کی روشنی میں غیر فعال سہل مرگی کے عمل کو جاری رکھا جائے گا۔ سپریم کورٹ کی رولنگ کے مطابق فعال سہل مرگی غیر قانونی ہے اور غیر فعال سہل مرگی کی اجازت ہائی کورٹ سے حاصل کرنا ضروری ہو گا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس