1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت میں غیرت کے نام پر قتل، سپریم کورٹ کی مداخلت

بھارت میں سپریم کورٹ نے وفاقی اورآٹھ ریاستی حکومتوں سے پوچھا ہے کہ وہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات روکنے کے لئے کیا اقدامات کر رہی ہیں۔

default

بھارتی سپریم کورٹ کی طرف سے یہ نوٹس اس وقت جاری کیا گیا جب ایک ایسے مقدمے کی سماعت کی جا رہی تھی،جس میں کہا گیا کہ حکومت عزت کے نام پر قتل کے واقعات روکنے میں ناکام ہورہی ہے۔

بھارت میں ایسے واقعات پرنظررکھنے والے ایک غیرسرکاری ادارے ’شکتی واہنی‘ نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست جمع کروائی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ ہریانہ، پنجاب، بہار، اتر پردیش، جھارکھنڈ، ہماچل پردیش،راجھستان اورمدھیہ پردیش کی ریاستی حکومتیں بھی غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں کو روکنے میں مسلسل ناکام ہو رہی ہیں۔

اس درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ متعلقہ حکومتیں قتل کے ایسے واقعات کو روکنے کے لئے ایک ایکشن پلان ترتیب دیں اور ان کی تحقیقات کے سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی پوچھ گچھ کی جائے۔ اس غیر سرکاری ادارے نے حکومت پرالزام عائد کیا ہے کہ وہ ’’جاگیر دارانہ رجحانات‘‘ کو روکنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

Oberstes Gericht in Neu Delhi

بھارتی سپریم کورٹ نے عزت کے نام پر قتل کی روک تھام کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات پرحکومت سے وضاحت طلب کی ہے

اس عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے لوگ بھی ہیں، جو اس صورتحال میں دباؤ کی وجہ سے خود کشی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جبکہ انتظامیہ ان مسائل کے حل کے لئے سیاسی عزم کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔

گزشتہ ہفتے ہی غیرت کے نام پردو جوڑوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک جوڑے کا تعلق نئی دہلی سے تھا جبکہ دوسرے کا تعلق ریاست ہریانہ سے تھا۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق بھارت میں گزشتہ اٹھارہ ماہ کے دوران کم ازکم تیس افراد ذات پات اور نسل کے تعصب کی بھینٹ چڑھے ہیں۔

بھارت میں سرگرم انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے واقعات بہتات سے رونما ہوتے ہیں لیکن مختلف وجوہات کی بناء پر وہ رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM