1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت میں صنفی توازن کو درست کرنے کے لیے اشتہاری مہم

آج جمعے کو بھارت کے صف اول کے اخبارات میں شائع ہونے والے پورے رنگین صفحے کے اشتہارات میں عوام کو یہ بتایا گیا کہ بیٹیاں زندگی میں خوشی کا باعث ہیں۔

default

یہ اشتہارات ایک عوامی مہم کا حصہ تھے جس کا مقصد بھارت میں صنفی عدم توازن کو ٹھیک کرنا ہے۔ دنیا کے کئی دیگر معاشروں کی طرح بھارت میں بھی والدین لڑکے کی پیدائش پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں جبکہ بیٹیوں کو بوجھ تصور کیا جاتا ہے۔

بچے کی جنس کے لحاظ سے اسقاط حمل اور بچیوں کو ہلاک کرنے کی وجہ سے بھارت میں ہر ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد 914 رہ گئی ہے۔

مدھیا پردیش کے اخبار میں شائع ہونے والے ایک اشتہار میں وزیر اعلٰی نے ایک بچی کو گود میں اٹھا رکھا ہے جبکہ اس پر لکھا ہے کہ بچیاں ہماری زندگیوں میں خوشیاں بھر دیتی ہیں۔ وہ سب کچھ کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔

اشتہارات ’’ہماری لڑکیوں کو بچاؤ‘‘ نامی مہم کا حصہ ہیں جو پانچ اکتوبر سے شروع ہو ر ہی ہے۔

Flash-Galerie Indien Familie auf Fahrrad

بھارت میں صنفی عدم توازن کو ٹھیک کرنے کے لیے نئی مہم شروع ہوئی ہے

بھارت میں شادی شدہ خواتین پر لڑکے پیدا کرنے کا دباؤ ہوتا ہے کیونکہ لڑکوں کو روزی کمانے والا، خاندان کا سربراہ اور بڑھاپے میں اپنے والدین کی کفالت کا ذمہ دار تصور کیا جاتا ہے۔

گزشتہ چند دہائیوں میں یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے لڑکیوں کے خلاف سماجی تعصب کو دور کرنے کے لیے بہت سی اسکیمیں شروع کی ہیں جن میں حاملہ ماؤں کے لیے مالی امداد کی ترغیب بھی شامل ہے مگر ان سے کچھ خاص فرق نہیں پڑا۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM