1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

بھارت میں سیلاب کی تباہ کاریاں: نایاب گینڈے بھی ہلاک

بھارت میں حالیہ سیلاب کے نتیجے میں کئی نایاب گینڈے بھی ہلاک ہوئے ہیں، جن کے یتیم بچوں کی دیکھ بھال اب ایک بڑا مسئلہ ہے۔ جنگلی حیات کے تحفظ کے ذمہ دار بھارتی حکام نے اس سلسلے میں مدد کی اپیل کی ہے۔

Indische Panzernashörner

آسام کے قاضی رنگا نیشنل پارک مییں ناک پر ایک سینگ والے نایاب گینڈوں کی مجموعی تعداد ڈہائی ہزار کے لگ بھگ ہے

شمال مشرقی بھارت میں ہولناک سیلاب کے بعد امدادی ٹیموں کو نایاب گینڈوں کے آٹھ بچے ملے ہیں، جن کے ماں باپ غالباً سیلاب کے نتیجے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایک امکان یہ بھی ہے کہ سیلاب کے ڈر سے ان کے ماں باپ بھاگ کر بلند مقامات پر چلے گئے ہوں اور اس دوران یہ بچے اُن سے بچھڑ گئے ہوں۔

ایک سینگ والے ان نایاب گینڈوں کی سب سے زیادہ آبادی کا مسکن بھارت کا مشہور قاضی رنگا پارک ہے، جہاں امدادی ٹیموں نے پانی میں گھرے ہوئےگینڈے کے بچوں کو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔

بھارت میں جنگلی حیات کے تحفظ کی تنظیم ’وائلڈ لائف ٹرسٹ آف انڈیا‘ کے ڈپٹی ڈائریکٹر راتھین برمن نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ گینڈے کے ان بچوں کی عمریں ایک سے لے کر آٹھ مہینے تک ہیں اور یہ کہ حکام کو ان کی دیکھ بھال کرنے اور انہیں کھلانے پلانے کے سلسلے میں کافی زیادہ دُشواریاں پیش آ رہی ہیں۔

برمن نے مزید بتایا:’’ان میں سے کچھ زخمی ہیں اور ہمارے ریسکیو سینٹر میں ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔ ہم اُنہیں ہاتھوں سے پال پوس رہے ہیں، فارمولا دودھ دے رہے ہیں اور ساتھ ساتھ ضروری وٹامن بھی۔ انہیں ہم دو سال بعد ہی پارک میں لے جا کر چھوڑیں گے۔‘‘

برمن نے کہا:’’ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ گینڈے کے ان بچوں کی دیکھ بھال کے لیے عطیات فراہم کریں۔ یہ دن میں دودھ کے چھ پیکٹ پی جاتے ہیں، جن کی قیمت پندرہ سو بھارتی روپے (تئیس ڈالر) ہوتی ہے اور یہ سلسلہ کم از کم مزید ایک سال تک چلے گا۔‘‘

Indien Catherine, Duchess of Cambridge mit Nashorn

اس سال کے اوائل میں بھارت کا دورہ کرنے والے برطانیہ کے پرنس ولیم کی اہلیہ قاضی رنگا نیشنل پارک میں گینڈے کے ایک بچے کو دودھ پلا رہی ہیں

آسام کے جنگلات میں چار سو تیس مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے ہوئے قاضی رنگا نیشنل پارک میں سیلاب کے نتیجے میں سترہ بالغ گینڈوں کے ساتھ ساتھ ہرن اور بہت سے دیگر جانور بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ برمن نے خدشہ ظاہر کیا کہ اور بھی جانور ہلاک ہوئے ہوں گے لیکن اس کا پتہ پانی کی سطح کم ہونے پر ہی چل سکے گا۔

آسام کی وزیر جنگلات پرمیلا رانی نے اے ایف کو بتایا کہ سترہ نایاب گینڈوں کا مارا جانا اپنی نوعیت کا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ اس پارک میں گینڈوں کی مجموعی تعداد ڈھائی ہزار کے لگ بھگ ہے۔ دنیا بھر سے سیاح اس پارک کو دیکھنےکے لیے جاتے ہیں۔

اس سال مون سون سیزن کے دوران سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث حالیہ دنوں میں آسام میں کم از کم چوبیس افراد ہلاک جبکہ تئیس لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں۔