1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت میں سیاست، ایک منافع بخش صنعت

پوری انتخابی مہم کے دوران سیاسی پارٹیوں اور امیدواروں کی طرف سے جس انداز میں پانی کی طرح پیسہ بہایا گیا اس پر سوالیہ نشانات کھڑے ہورہے ہیں۔

default

کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے صرف اپنے رہنماوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے پر یومیہ 20 کروڑ روپے خرچ کئے

بھارت میں جاری عام انتخابات اب تقریباً اپنے اختتام کو پہنچ رہے ہیں۔ پانچویں اور آخری مرحلے کی پولنگ کے لئے انتخابی مہم پیر کی روز ختم ہوگئی لیکن پوری انتخابی مہم کے دوران سیاسی پارٹیوں اور امیدواروں کی طرف سے جس انداز میں پانی کی طرح پیسہ بہایا گیا اس پر سوالیہ نشانات کھڑے ہورہے ہیں۔

Erste Parlamentssitzung - Rahul Gandhi

کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے اپنے حلف نامے میں 1.3 کروڑ روپے جب کہ ان کے صاحب زادے اور پارٹی کے جنرل سکریٹری راہل گاندھی نے اپنے حلف نامے میں 2.25 کروڑ روپے کے اثاثوں کا ذکر کیا ہے

الیکشن کمیشن نے پارٹیوں اور امیدواروں کے انتخابی خرچ کو محدود رکھنے کے لئے متعدد ہدایات جاری کیں اور طرح طرح کے ضابطے بنائے لیکن ان پر شائد ہی کسی نے توجہ دی۔ ایک اندازے کے مطابق امیدواروں نے انتخابی مہم پر اوسطاً تین سے پندرہ کروڑ روپے خرچ کئے جب کہ انہیں صرف 25 لاکھ روپے تک خرچ کرنے کی اجازت تھی۔

سیاسی تجزیہ کاروں اور ماہرین سماجیات کا خیال ہے کہ بھارت میں سیاست اب عوام کی خدمت کا ذریعہ نہیں رہ گیا ہے بلکہ اس نے ایک تجارت کی شکل اختیار کرلی ہے اس لئے ہر سیاسی لیڈر انتخابات میں جتنا روپیہ خرچ کرتا ہے اسے منافع اور سود در سود کے ساتھ وصول کرلینے کے لئے تمام راستے اپناتا ہے۔

انتخابات پر نگاہ رکھنی والی ایک غیرسرکاری تنظیم نیشنل الیکشن واچ کی طرف سے کرائے گئے سروے کے مطابق عوام کے منتخب بیشتر نمائندوں کی دولت میں پچھلے پانچ برسوں کے دوران 298 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جب کہ بعض ممبران پارلیمان تو ایسے ہیں جن کی دولت میں 3000 گنا تک اضافہ ہوا ہے۔ حالانکہ ملک میں خط افلاس سے نیچے زندگی گذارنے والوں کی تعداد 300 ملین ہے اور اتنی ہی تعداد بے روزگار لوگو ں کی ہے۔

Anhänger der Bharatiya Janata Partei im indischen Teil Kaschmirs



رپورٹ کے مطابق بھارت کی غریب ترین ریاستوں میں سے ایک اڑیسہ میں اس بار ایسے7 امیدوار میدان میں تھے جو کروڑ پتی ہیں۔ ان میں سے سات کا تعلق قحط سالی سے متاثرہ کالاہانڈی، بولانگیر اور کوراپٹ علاقے سے ہے۔

نیشنل الیکشن واچ نے اس مرتبہ الیکشن میں حصہ لینے والے سیاست دانوں کی طرف سے پیش کردہ حلف ناموں کا 2004 کے الیکشن میں پیش کردہ حلف ناموں سے موازنہ کیا تو پتہ چلا کہ ان کی آمدنی میں پچھلے پانچ برسوں کے دوران حیرت ناک اضافہ ہوا ہے۔ نیشنل الیکشن واچ کے کنوینر انیل بیروال نے اس حوالے سے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ فی امیدوار اوسطاً اضافہ ڈھائی کروڑ روپے کا ہے لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ امیدوار جو حلف نامے داخل کرتے ہیں ان میں صرف اس بات کا ذکر ہوتا ہے کہ ان کے اثاثوں میں کتنا اضافہ ہوا ہے اور ان میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں ہوتا کہ یہ رقم قانونی طریقے سے حاصل کی گئی تھی یا غیرقانونی ذرائع سے۔ انہ کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال پورے ملک کی ہے البتہ اس میں سب سے آگے جنوبی ریاست کرناٹک ہے، اس کے بعد ہریانہ، پنجاب اور دوسری ریاستوں کا نمبر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس معاملے میں کسی ریاست کے غریب یا امیر ہونے کا یا وہاں کے لوگوں کا خطِ افلاس سے نیچے ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Anhänger der Bharatiya Janata Partei im indischen Teil Kaschmirs 2

رپورٹ کے مطابق اس مرتبہ الیکشن میں حصہ لینے والوں میں آمدنی میں اضافے کے لحاظ سے بہوجن سماج پارٹی کے اترپردیش کے ممبر پارلیمان محمد طاہر ہیں جن کی آمدنی میں 9137 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے بعد بی جے پی کے وجے شنکر (کرناٹک) 526 فیصد، سشمتا باوری (مغربی بنگال) 151فیصد، کانگریس کے سچن پائلٹ (راجستھان) 746 فیصد اور نوین جندل (ہریانہ) 980 فیصد۔

اس فہرست میں سب سے امیرترین امیدوار کانگریس پارٹی کے لگاداپتی راجگوپال ہیں جو آندھرا پردیش کے وجے واڑہ سے امیدوار ہیں۔ دو ہزار چار میں انہوں نے 6 کرو ڑ روپے کے اثاثوں کا اعلان کیا تھا جب کہ اس بار 299 کروڑ روپے کے اثاثے دکھائے ہیں۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے اپنے حلف نامے میں 1.3 کروڑ روپے جب کہ ان کے صاحب زادے اور پارٹی کے جنرل سکریٹری راہل گاندھی نے اپنے حلف نامے میں 2.25 کروڑ روپے کے اثاثوں کا ذکر کیا ہے لیکن یہاں بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دہلی کی قریب اپنے دو فارم ہاؤسوں کی قیمت بہت کم کرکے دکھائی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس مرتبہ عام انتخابات میں تقریباً پچاس ہزار کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ انل بیروال کا کہنا ہے کہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود الیکشن کمیشن کے لئے کسی بھی سیاسی پارٹی یا امیدوار کے ذریعے خرچ کئے گئے اصل رقم کا پتہ لگانا مشکل ہے کیوں کہ قانون میں بہت ساری خامیاں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالانکہ عوامی نمائندگی کے قانون میں اس بات کا ذکر تو ہے کہ کوئی امیدوار صرف 25 لاکھ روپے تک خرچ کرسکتا ہے لیکن اس میں سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ کوئی سیاسی پارٹی کتنا رقم خرچ کرسکتی ہے اور پارٹی کسی بھی خرچ کو اپنا خرچ بتاکر اسے جائز قرار دے سکتی ہے۔

Chef der indischen Wahlkommission N. Gopalaswamy

بھارتی الیکشن کمشنر این گوپال سوامی

اس طرح بعض معاملات میں پارٹی کا کوئی امیدوار ایک پیسہ خرچ کئے بغیر بھی الیکشن لڑ لیتا ہے۔ لیکن یہ معاملہ بہت سنگین ہے کیوں کہ اس کی وجہ سے ایسے لوگوں کو جن کے پاس کروڑوں روپے نہ ہوں انہیں الیکشن سے محروم کیا جارہا ہے۔ انیل بیروال کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کو سیاسی پارٹیوں کو ریگولیٹ کر کے کسی حد تک حل کیا جاسکتا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کو ملنے والے پیسوں کے بارے میں پوری شفافیت ہونی چاہئے اور انتخابی اخراجات حکومت کو برداشت کرنا چاہئے۔

خیال رہے کہ اس بار انتخابی مہم کے دوران دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے صرف اپنے رہنماوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لےجانے پر یومیہ 20 کروڑ روپے خرچ کئے۔ حکمراں کانگریس پارٹی نے 21 ہیلی کاپٹر اور 18 چھوٹے جیٹ طیارے اور اپوزیشن بی جے پی نے بھی 21 ہیلی کاپٹر اور 14 جیٹ طیارے کرائے پر لئے۔ اس کے علاوہ سیاسی پارٹیو ں نے سرکاری طور پر 3000 کروڑ روپے اشتہارات پر بھی خرچ کئے۔