1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

بھارت میں سو سالہ خاتون کا ریپ، معمر خاتون انتقال کر گئیں

بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ ملک کے شمالی حصے میں پيش آنے والے ايک واقعے ميں شراب کے نشے میں مدہوش ايک شخص نے ایک سو سالہ بوڑھی خاتون کے ساتھ جنسی زيادتی کی، جس کے باعث یہ خاتون انتقال کر گئی ہیں۔

یہ واقعہ  اتوار کو رات گئے بھارتی رياست اتر پردیش کے ضلع میرٹھ میں پیش آیا۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے سے فون پر بات کرتے ہوئے مقامی پولیس افسر راجیش کمار کا کہنا تھا، ’’یہ بوڑھی خاتون اپنے گھر کے برآمدے میں سوئی ہوئی تھیں، جب نشے میں دھت ایک شخص نے انہيں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ خاتون کو طبی امداد کے لیے ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ پیر کے روز انتقال کر گئیں۔‘‘

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنسی زیادتی کے جرم کا مرتکب ہونے والے اس شخص کی عمر بیس برس سے زيادہ ہے اور اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزم پر ریپ اور قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزم نے اس جرم کے ارتکاب سے انکار کیا ہے۔

گزشتہ کئی برسوں سے بھارت خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرائم کے حوالے سے خبروں میں ہے۔ سن 2012 میں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک طالبہ کے ساتھ گینگ ریپ کے واقعے نے ملک بھر میں شدید غم و غصے کی فضا کو جنم دیا تھا اور اس حوالے سے قوانین بھی سخت تر بنائے گئے تھے۔ تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کے ایک تازہ جائزے کے مطابق خواتین پر جنسی حملوں کے لحاظ سے نئی دہلی کو دنیا کے بد ترین اور غیر محفوظ ترین شہروں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔

رواں برس کے آغاز ہی میں نئی دہلی پولیس کی جانب سے اعداد و شمار جاری کیے گئے تھے جن کے مطابق  بھارتی دارالحکومت میں گزشتہ برس ہر چار گھنٹے میں ایک خاتون جنسی زیادتی کا شکار ہوئی۔ سن 2016 میں ریپ  کے 2155 مقدمات درج کیے گئے تھے۔

DW.COM