1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت میں سب سے طویل دریائی پل کا افتتاح

بھارت میں آج چھبیس مئی کو ملک کے سب سے طویل دریائی پل کا افتتاح ہوا۔ شمال مشرقی صوبہ آسام میں واقع اس پل کے بن جانے سے بھارتی بری افواج کے لیے چین کی سرحد تک پہنچنا اب کافی آسان ہو جائے گا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے شمال مشرقی صوبہ آسام میں برہم پتر ندی پر تعمیر بھارت کے سب سے بڑے دریائی پل دھولہ۔سعدیہ کا افتتاح کیا۔ انہوں نے بعد میں اس کا نام معروف موسیقار اور گلوکار آنجہانی بھوپین ہزاریکا کے نام پر رکھنے کا اعلان کیا۔ ہزاریکا اسی علاقہ کے رہنے والے تھے اور انہوں نے اپنی موسیقی کے ذریعہ برہم پترکو دنیا میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

اس پل کی لمبائی نواعشاریہ دو کلومیٹر ہے اور یہ ممبئی میں بحیرہ عرب پر واقع باندرہ۔ورلی سی لنک سے تیس فیصد زیادہ طویل ہے۔ اس پر 2056 کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے۔ دھولہ سعدیہ پل کا ایک سرا آسام کے دارالحکومت گوہاٹی سے پانچ سو چالیس کلومیٹر دور اور دوسرا سرا دھولہ میں ہے، جو اروناچل پردیش کے دارالحکومت ایٹانگر سے تین سو کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ جب کہ چین کی سرحد سے اس پل کی دوری محض ایک سوکلومیٹر ہے۔



خیال رہے کہ چین اروناچل پردیش کو بھارت کا حصہ تسلیم نہیں کرتا اور وہ اسے ’چینی تبت‘ کے نام سے پکارتا ہے۔ تاہم بھارت کا کہنا ہے کہ اروناچل پردیش اس کا اٹوٹ حصہ ہے۔ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اروناچل پردیش کے صدر کا کہنا تھا کہ چین کا دعوٰی بے بنیاد ہے۔ چین کے ساتھ بھارت کی کوئی سرحد نہیں ملتی بلکہ تبت کے ساتھ ملتی ہے، جس پر چین نے سن 1959میں قبضہ کر لیا تھا اور وہ اب اپنی سرحد کو اروناچل پردیش تک بڑھانا چاہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اروناچل پردیش چین کے ساتھ لگنے والا بھارت کا سب سے کمزور مقام ہے کیوں کہ دشوار گزار پہاڑی علاقے کی وجہ سے وہاں پہنچنا کافی مشکل ہوتا ہے۔ وہاں بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے۔ اس لیے یہ علاقہ چین کی دراندازی کی زد میں رہتا ہے۔ چینی فوج کئی مرتبہ بھارتی سرحد کے اندر تک پہنچ چکی ہیں۔ سن 2013 میں چینی افواج بھارتی سرحد میں بیس کلومیٹر اندر تک داخل ہوگئی تھیں۔

دھولہ سعدیہ پل بن جانے سے بھارتی بری افواج کو اروناچل پردیش میں چین سے ملحق سرحدی علاقوں میں کم وقت اور آسانی سے پہنچنے میں مدد ملے گی۔ فوجی اہمیت کے مد نظر اس پل کو اتنا مضبوط بنایا گیا ہے کہ اس پر سے ساٹھ ٹن وزنی جنگی ٹینک آسانی سے گزر سکیں گے۔

اسٹریٹیجک امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ چین جیسے پڑوسی ملک کی وجہ سے اس پل کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ سن 1962کی بھارت چین جنگ کے وقت اروناچل سرحد تک فوج کے ہتھیاروں اور دوسرے وسائل کو پہنچانے میں کافی پریشانی ہوئی تھی۔ اس پل کے بن جانے سے جنگ کی صورت میں فوری کارروائی کرنے کے لیے یہ کافی سود مند ثابت ہوگا۔ آج کل اروناچل پردیش پہنچنے کے لیے بھارتی بری افواج کو آسام کے تیز پور علاقے سے ہوکر جانا پڑتا ہے اور تیز پور سے اروناچل پردیش کے سرحدی علاقوں تک پہنچنے میں دو دن لگ جاتے ہیں۔



خیال رہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی دفاعی طاقت کے مدنظر بھارت اپنی سرحدوں کو مضبوط کرنے اور دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے حالیہ کچھ عرصے سے کافی تیزی سے اقدامات کر رہا ہے تاکہ چین کے کسی بھی چیلنج کا جواب دیا جا سکے۔ سرحد کے ساتھ ساتھ 1500کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر کا کام  جاری ہے جب کہ بھارتی فضائیہ نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے گزشتہ سال سی 17گلوب ماسٹر ٹرانسپورٹ طیارہ کو اروناچل پردیش میں چین کی سرحد سے صرف 29 کلومیٹر دور اتار دیا تھا۔ اس سے قبل اگست 2013 میں بھی بھارتی فضائیہ نے اپنے سپر ہرکیولس ٹرانسپورٹ طیارہ سی 2130 کو چینی سرحد کے بہت قریب اتارا تھا، جہاں اس سے چند ماہ قبل ہی دونوں ملکوں کی فوجیں آمنے سامنے آگئی تھیں۔