1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت میں زمین کے لیے انسانوں کا اب جنگلی حیات سے بھی تصادم

بھارت میں ایک ہجوم  سے اپنی جان بچاتے ہوئے ہاتھی اور اس کے بچھڑے کی ایک تصویر کی اشاعت کے بعد اس بحث میں شدت آ گئی ہے کہ زمین کی ملکیت کے معاملے پر انسانوں اور جانوروں میں مڈبھیڑ روز کا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

بھارتی ریاست مغربی بنگال کے بنکورا ضلع میں یہ تصویر جنگلی حیات کی تصویر کشی کرنے والے فوٹو گرافر بپلاپ ہزرا نے لی تھی۔ جنگلی حیات کی بقا کے لیے کام کرنے والی سینکچوری نیچر فاؤنڈیشن نے اس تصویر کے لیے ہزرا کو سال کے بہترین وائلڈ لائف فوٹو گرافر کا ایوارڈ بھی دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مقامی لوگوں کے ایک ہجوم نے ان ہاتھیوں کے پیروں کے نیچے آگ کے گولے پھینکے تھے۔ تصویر کا عنوان ہے،’ جہنم یہاں ہے‘۔

جنگلی حیات ہی کو عکس بند کرنے والے ایک فوٹو گرافر نایان کھانولکر کا کہنا تھا،’’ تصویر کا عنوان زندگی کی اس حقیقت کا غماز ہے کہ وہ جانور جن کی ہم کبھی پوجا کرتے تھے آج اُن پر آگ کے گولے پھینک رہے ہیں۔‘‘ کھانولکر تصویری مقابلے کے ججوں میں سے ایک تھے۔

کھانولکر نے مزید کہا،’’ ہمارے کھیت اور ہماری کانیں دراصل جانوروں کے رہائشی علاقوں پر بنے ناجائز تجاوزات ہیں جن سے یہ تنازعہ جنم لے رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم زمین کے حصول کے لیے اور کہاں جائیں گے؟‘‘

بھارت کے جنگلوں میں پائے جانے والے تیس ہزار کے قریب ہاتھیوں کی نسل خطرے میں ہے۔ ہندو مذہب میں ہاتھیوں کو ثقافتی اور مذہبی حوالے سے احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ یہی ہاتھی انسانوں کی بستیوں میں آتے ہیں تو گھروں اور فصلوں کو روندتے ہوئے اور لوگوں کو پاؤں تلے کچلتے ہوئے نکل جاتے ہیں۔ انڈیا میں محکمہ جنگلات کے تخمینے کے مطابق ہر برس قریب تین سو افراد ہاتھیوں کے پاؤں تلے روندے جانے سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح درجنو‌ں ہاتھی بھی ناجائز تجاوزات کے سبب اور کبھی روڈ حادثوں میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ بعض مرتبہ بجلی کے جھٹکے لگنے یا زہر دیے جانے کے باعث بھی ہاتھیوں کی ہلاکتیں رپورٹ کی جاتی ہیں۔

شیروں اور ہاتھیوں سمیت جنگلی حیات کے لیے مختص کی گئی زمین پر قبائلی دیہاتی بھی رہائش پذیر ہیں اور سینکڑوں ایسے افراد سے حال ہی میں پر تشدد جھڑپوں کے بعد زمین خالی کرا لی گئی ہے۔

 جنگلی حیات کی تصویر کشی کرنے والے فوٹو گرافر بپلاپ ہزرا کو امید ہے کہ ان کی اس تصویر کے ذریعے لوگ اس بہت اہم معاملے پر زیادہ غور و فکر سے کام لیں گے۔

DW.COM