1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت میں ریل گاڑیوں کا تصادم، درجنوں ہلاک

بھارت کی مشرقی ریاست مغربی بنگال میں ماؤ نواز باغیوں کی ایک مبینہ کارروائی کے نتیجے میں دو ٹرینیں آپس میں ٹکراگئیں، جس سے کم از کم تیس افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہوگئے۔

default

حکومتی ذرائع کے مطابق مغربی بنگال کے ضلع مغربی مدناپور میں گیانیشوری ایکسپریس نامی مسافر ریل گاڑی میں پہلے ایک زور دار دھماکہ ہوا، جس کے بعد اس ٹرین کا انجن اور 13 بوگیاں پٹڑی سے اتر کر مخالف سمت سے آنے والی ایک مال بردار ریل گاڑی کی راستے میں آ گئے۔ اسی دوران اس ٹریک پر سے گزرنے والی ایک مال بردار ٹرین بھی مخالف سمت سے وہاں پہنچ گئی اور دونوں گاڑیوں کے ٹکراؤ کے باعث یہ حادثہ اور بھی سنگین ہوگیا۔

موقع پر موجود امدادی کارکنوں اور رضا کاروں کے بقول خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد ساٹھ تک پہنچ سکتی ہے۔ حادثے کا شکار ہونے والی ریل گاڑی کولکتہ سے مسافروں کو لے کر مشرقی بھارتی شہر ممبئی جارہی تھی۔

Indien Bürgerkrieg Paramilitärs Naxalites

بائیں بازو کے ان باغیوں کا اثر و رسوخ بھارت کی تیرہ مشرقی ریاستوں میں خاص طور پر بہت زیادہ ہے

ریاست مغربی بنگال میں یہ حادثہ جس مقام پر پیش آیا ہے وہ ماؤ نواز باغیوں کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ باغیوں پر ابھی محض شک کی بنیاد پر الزام عائد کیا گیا ہے۔ ماؤ نواز اس واقعے سے قبل بھی پولیس سٹیشن اور ریل گاڑیوں سمیت متعدد حکومتی تنصیبات کو نشانہ بناچکے ہیں۔

نئی دہلی حکومت ان دنوں باغیوں کو گھنے جنگلات میں واقع ان کے ٹھکانوں سے نکال باہر کرنے کے سلسلے میں کارروائیاں کر رہی ہیں۔ باغیوں کی جانب سے بھی جوابی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ ماہ رواں ہی میں معدنی دولت سے مالا مال یونین ریاست چھتیس گڑھ میں ایک بس میں دھماکے سے 35 شہری اور بعد میں ایک اور حملے میں 76 پولیس والے مارے گئے تھے۔

بھارتی وزیر اعظم باغیوں کو داخلی سلامتی کے لئے سب سے بڑے خطرے کا نام دیتے ہیں۔ ماؤ پرست نظام حکومت کے لئے جدوجہد کرنے والے ان باغیوں کی عشروں پرانی مسلح تحریک اب تک بھارت کی تقریبا تمام اٹھائیس ریاستوں میں پھیل چکی ہے۔

غریب اور بےزمین کسانوں کے حقوق کی جنگ لڑنے کا دعویٰ کرنے والے بائیں بازو کے ان باغیوں کا اثر و رسوخ بھارت کی تیرہ مشرقی ریاستوں میں خاص طور پر بہت زیادہ ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM