1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت میں ریاستی انتخابات، گوا اور پنجاب میں پولنگ شروع

بھارت میں پنجاب اور گوا میں آج ریاستی انتخابات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ بھارت کی پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں یہ پہلے مرحلے کی ووٹنگ ہے۔ اس انتخابی عمل کو مودی کے لیے ایک امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔

آئندہ پانچ ہفتوں کے دوران پانچ بھارتی ریاستوں میں ایک سو ساٹھ ملین ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے ایک ہزار اور پانچ سو روپے کے نوٹوں کی بندش کے بعد یہ پہلا انتخابی عمل ہے، اس لیے اسے مودی کی بڑے نوٹوں کو ختم کرنے کی پالیسی کا ایک امتحان بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

کرنسی نوٹوں پر پابندی سے اقتصادی نمو متاثر ہوئی، بھارت

مہاتما گاندھی کی جگہ مودی؟

کرنسی نوٹ تبدیل کرانے کا آخری دن، بینکوں کے سامنے قطاریں

یہ امر اہم ہے کہ مودی کی اس پالیسی کی وجہ سے نہ صرف ملکی معیشت پر منفی اثر پڑا بلکہ دوسری طرف عام شہری بھی شدید متاثر ہوئے۔ تاہم عوامی جائزوں کے مطابق مودی کی مقبولیت میں کمی واقع نہیں ہوئی۔

پنجاب اور گوا میں ریاستی انتخابات چار فروری بروز ہفتہ منعقد کیے جا رہے ہیں جبکہ دیگر تین بھارتی ریاستوں اتر پردیش، اتر آکھنڈ اور منی پور میں ریاستی انتخابات گیارہ فروری اور آٹھ مارچ کے درمیان منعقد کرائے جائیں گے۔ نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے بتایا ہے کہ گوا اور پنجاب میں قائم پولنگ اسٹیشنوں کے باہر ووٹرز کی لمبی قطاریں دیکھی جا سکتی ہیں۔

مودی کی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو گوا کی ریاست میں اکثریت حاصل ہے جبکہ پنجاب میں حکمران جماعت نے اکالی دل پارٹی کے ساتھ مل کر اتحاد بنا رکھا ہے۔ تاہم اس مرتبہ ان دونوں ریاستوں میں الیکشن میں مرکزی اپوزیشن کانگریس پارٹی کی کوشش ہو گی کہ وہ اکثریت حاصل کر لے۔ پنجاب کے انتخابات میں مودی کی جماعت کے عام آدمی پارٹی سے سخت مقابلے کا امکان ہے۔

اس انتخابی مرحلے میں سب سے اہم ریاستی انتخابات ریاست اتر پردیش کے قرار دیے جا رہے ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے بھارت کی اس سب سے بڑی ریاست میں آئندہ ہفتے کے دن انتخابات شروع ہوں گے۔ اس ریاست میں مودی کو سماج وادی پارٹی سے سخت مقابلہ کرنا ہو گا۔ یہ پارٹیٰ علاقائی سطح پر کافی مقبول قرار دی جاتی ہے اور ناقدین کے مطابق یہ مودی کو کڑا وقت دے گی۔

منی پور اور اتر آکھنڈ میں اس وقت  کانگریس پارٹی کی حکمرانی ہے۔ تاہم مودی کی ہندو قوم پرست پارٹی نے اس مرتبہ بھرپور تیاری کی ہے کہ وہ ان دونوں ریاستوں میں اس بار کانگریس کو شکست دے سکے۔ بھارت کی مجموعی طور پر  1.25 بلین کی آبادی کا پانچواں حصہ انہی پانچ ریاستوں میں آباد ہے۔ اس لیے ان ریاستوں کے انتخابات ہمیشہ ہی سیاسی اعتبار سے اہم تصور کیے جاتے ہیں۔

DW.COM