1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت میں دیہاتیوں کے حقوق کے لیے سرگرم ایک اور شخصیت قتل

بھارت کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ میں دیہاتیوں کے حقوق کے لیے سرگرم ایک 52 سالہ راہبہ کے پر اسرار قتل کے بعد نئی دہلی حکومت پر معاملے کی فوری اور جامع تحیقات کے لیے زور دیا جا رہا ہے۔

default

والشا جون نامی یہ خاتون کان کنوں کے حقوق کے لیے خاصی سرگرم تھیں اور انہیں گزشتہ روز ایک نامعلوم حملہ آور نے کلہاڑی کے وار کرکے قتل کر دیا تھا۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ میں جنوبی ایشیاء کی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی کے بقول قتل کی اس ظالمانہ واردات کے پس پردہ افراد سے متعلق تحقیقات کرکے ان پر جلد از جلد مقدمہ چلانے کی ضرورت ہے، ’’ ساتھ ہی حکومت کو اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ سول سوسائٹی سے وابستہ افراد کو مسلسل دھمکایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ افراد بھی نشانے پر ہیں، جو بدعنوانی کے واقعات کی نشاندہی کر رہے ہیں۔‘‘  

والشا جون کے قتل کے الزام میں تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی البتہ پولیس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مقتولہ کو پہلے ہی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ ان کے قتل میں کان کنی سے متعلق مقامی مافیا کو ذمہ دار ٹہرا رہا ہے۔ بھارت میں اقتصادی ترقی کے تیزی سے رواں پہیے کے لیے توانائی کی ضروریات بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں جھار کھنڈ جیسی دیگر ریاستوں میں بھی مقامی باشندوں کی بے دخلی اور کوئلے و لوہے کی کچ دھات نکالنے کے بہت سے متنازعہ منصوبے جاری ہیں۔

NO FLASH Indien Maoisten Rebellen Anschlag

ریاست جھار کھنڈ میں حکومت مخالف ماؤ نواز باغیوں کو بھی خاصی عوامی حمایت حاصل ہے

نئی دہلی حکومت نے بعض معاملات میں کان سے حاصل شدہ منافع میں مقامی آبادیوں کو حصہ دار تجویز کیا ہے مگر ایسی مصدقہ اطلاعات موجود ہیں کہ کان کنی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں آواز بلند کرنے والے بھی مشکل میں ہیں۔

ایشیئن سینٹر فار ہیومن رائٹس کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال سے اب تک ان معاملات کی تفصیلات جاننے کی کوشش کرنے والے 12 افراد قتل کیے جاچکے ہیں۔ بھارت میں نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن سے وابستہ جے کے شری واستو کا کہنا ہے کہ والشا جون کا معاملہ بھی انہی بارہ افراد سے ملتا جلتا ہے، ’’ ہمیں امید ہے کہ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، اگر ایسا نہیں ہوا تو ہم اپنے خدشات کے اظہار کے لیے ایک اعلامیہ جاری کر دیں گے۔‘‘

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM