1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت میں دھماکوں کے بعد خفیہ اداروں کی صلاحیت پر سوالیہ نشان؟

بھارتی شہروں بنگلور اور احمدآباد میں چوبیس گھنٹوں کے دوران سلسلہ وار بم دھماکوں اور منگل کے دن ریاست گجرات کے ایک اور شہر سورت میں تقریبا بیس بم برآمد ہوئے جنہیں ناکارہ بنادیا گیا ہے۔

default

احمد آباد بم دھماکوں کے بعد کا منظر

رواں برس مئی میں بھارتی ریاست راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں بھی سلسلہ وار بم دھماکے ہوے تھے جن میں کم از کم ساٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ ملک کے بعض ریٹائرڑ سیکورٹی ماہرین کے خیال میں خفیہ ادارے اپنا کردار اچھی طرح سے ادا کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔

بھارت میں ہر بم دھماکے یا کسی بھی دہشت گردانہ حملے کے بعد ایک ہی بات سننے کو ملتی ہے کہ مرکزی اینٹلیجنس بیورو نے ریاستی خفیہ اداروں کو اس طرح کے حملوں کی اطلاع پہلے ہی دے دی تھی۔ دھماکوں یا دہشت گردی کی واردات کے بعد ملک میں ہائی الرٹ کا علان کیا جاتا ہے، بعض مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جاتا ہے، جن میں اکثریت مسلمانوں یا پھر بنگلہ دیشیوں کی ہوتی ہے لیکن بہت کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ پولیس اصل حملہ آروں یا منصوبہ بندی کرنے والوں کا سرغ لگا سکے۔

بنگلوراوراحمد آباد میں حالیہ بم دھماکوں کے بعد جن میں کم از کم پچاس افراد ہلاک اور تقریبا ڈیرھ سو زخمی ہو گئے، بھارت کی مرکزی اور ریاستی خفیہ اداروں کی صلاحیت اور ان کے طریقہ کار پر سوالیہ نشان لگتا جا رہا ہے۔ ماہرہین کا کہنا ہے کہ پولیس اور خفیہ اداروں کے مابین موئثر رابطہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے ایسے واقعات کو روکنے میں کامیابی حاصل نہیں ہو رہی۔

DW.COM