1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

NRS-Import

بھارت میں دم توڑتی مائیں

بھارت میں صحت عامہ کے نظام میں خرابیاں اور تعلیم کی کمی دوران زچگی خواتین کی ہلاکتوں کی بڑی وجوہات تصور کی جاتی ہیں۔ اس ضمن میں روایتی طریقوں کی بحالی سے شاید کچھ خواتین کی جان بچ سکتی ہے۔

default

بھارت میں صحت عامہ کے غیر مؤثر نظام اور تعلیم کی کمی کی وجہ سے دوران زچگی ہلاک ہونے والی بے شمار خواتین میں سے بائیس سالہ ہنسہ بھی شامل ہیں۔ دو بچوں کی ماں ضلع راجکوٹ کے ماٹل نامی گاؤں میں رہتی تھی۔ اس کے شوہر کی آنٹی نے بتایا، ’یہ اس کی تیسری زچگی تھی۔ حمل کے پانچویں ماہ کے دوران کچھ پیچیدگیاں پیدا ہو گئی تھیں‘۔

ہنسہ کو قریبی ہسپتال تک پہنچانے کا بندوبست نہ کیا جا سکا اور جب اسے کافی تگ ودو کے بعد قریبی ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا، تو اس نے کچھ ادویات دینے کے بعد اسے ضلعی ہسپتال لے جانے کا مشورہ دیا تاہم وہ اسی دوران ہی ہلاک ہو گئی۔

کم عمری کی شادی اور غیر مؤثر فیملی پلانگ

بھارت کے دیہی علاقوں میں بہت سی خواتین کم عمری میں ہی بیاہ دی جاتی ہیں۔ ہنسہ بھی انہی میں سے ایک تھی۔ تیسری جان لیوا زچگی سے قبل اس کے دو بچے تھے۔ ایک کی عمر دو برس تھی اور دوسرے کی قریب سوا برس۔

Flash-Galerie Indien Mutter und Kind

بھارت کے دیہی علاقوں میں بہت سی خواتین کم عمری میں ہی بیاہ دی جاتی ہیں

غیر موثر فیملی پلانگ کی وجہ سے بچوں کے پیدائش کے درمیان وقفہ ختم ہو جاتا ہے اور ایسی خواتین پہلی زچگی کے اثرات سے ابھی باہر نہیں نکلتیں کہ وہ ایک مرتبہ پھر حاملہ ہو جاتی ہیں۔ بنیادی ہیلتھ کیئر اور کاؤنسلنگ کی عدم موجودگی کے باعث ایسے واقعات کا رونما ہونا ایک عام سی بات ہے۔

اگرچہ بھارتی حکومت اس حوالے سے دوران زچگی خواتین کی اموات کی شرح کم کرنے کی کوششوں میں ہے تاہم ایسا مشکل ہی نظر آتا ہے کہ نئی دہلی حکومت نئے ہزاریہ اہداف میں شامل ایک اہم ہدف یعنی دوران زچگی خواتین کی ہلاکتوں کی شرح میں 75 فیصد کمی لے آئے۔

یہ اہداف 1990ء میں طے کیے گئے تھے۔ اس وقت کے اعداد و شمار کے مطابق زندہ بچوں کو جنم دینے والی ہر ایک لاکھ ماؤں میں سے 523 دوران زچگی ہلاک ہو جاتی تھیں جبکہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق اب یہ تعداد 254 بنتی ہے، جو کوئی قابل ستائش کمی نہیں ہے۔

بھارت میں زچگیوں کے دوران روایتی طریقہ کار کی اہمیت

طبی ماہرین کے بقول بھارت میں حاملہ خواتین کی مشاورت اور زچگی کے عمل کے دوران رہنمائی دینے میں ’مڈ وائفس‘ یعنی دائیوں کا کردار انتہائی اہم ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ روایتی طریقہ بالخصوص بھارت کے دیہی علاقوں میں زچگی کے دوران خواتین کی ہلاکتیں کم کرنے کا ایک انتہائی اہم ذریعہ ہو سکتا ہے۔

Südafrika Schwangerschaft

طبی ماہرین کے بقول بھارت میں حاملہ خواتین کی مشاورت اور زچگی کے عمل کے دوران رہنمائی دینے میں ’مڈ وائفس‘ یعنی دائیوں کا کردار انتہائی اہم ہو سکتا ہے

حیدر آباد میں ایک مقامی غیر سرکاری ادارے سے وابستہ سمیتا باجپائی کہتی ہیں کہ بھارت میں دائی کی خدمات حاصل کرنے کی روایت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب دور دراز علاقوں میں رہنے والی حاملہ خواتین کو مشاورت یا زچگی کے لیے ایک طویل مسافت طے کرنا ہوتی ہے، جو کبھجی کبھی ممکن نہیں ہو سکتی۔

دوران زچگی ماؤں کی ہلاکتوں کو کم کرنے کے لیے سری لنکا کی فتح

بھارت کے ہمسایہ ملک سری لنکا میں دوران زچگی ماؤں کی ہلاکتوں کی تعداد میں ڈرامائی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ کولمبو حکومت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق وہاں زندہ بچوں کو جنم دینے والی ہر لاکھ ماؤں میں سے دوران زچگی ہلاک ہونے والی خواتین کی تعداد صرف 32 ہے۔

جرمنی میں تعینات سری لنکا کے سفیر Sarrath Kongahage کہتے ہیں کہ اس کامیابی کی وجہ مؤثر ہیلتھ کیئر نظام اورخواتین کا تعلیم یافتہ ہونا ہے۔ سری لنکا میں خواتین آبادی کا پچانوے فیصد اسکول جاتا ہے اور وہاں ماں بننے کی اوسط عمر اٹھارہ برس ہے۔

جرمنی میں مڈوائفس کا رحجان

جرمنی جیسے ترقی یافتہ ملک میں حاملہ خواتین میں مڈ وائفس کا کردار انتہائی اہم ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں پیشہ ور دائیاں گھروں پر بھی زچگی کا عمل سر انجام دیتی ہیں۔ جرمنی میں ایک غیر سرکاری ادارے سے وابستہ ماہر کاؤنسلر کرسٹین مینز ریہل کہتی ہیں، ’جرمنی میں مڈوائف کسی ڈاکٹر کی غیر موجودگی میں زچگی کا عمل سر انجام دے سکتی ہیں جبکہ اس مقصد کے لیے ڈاکٹر کو مڈ وائف کی ضرورت بہرحال رہتی ہے‘۔

Ultraschall Untersuchung Schwangerschaft Bauch Frau Arzt Flash-Galerie

جرمنی جیسے ترقی یافتہ ملک میں حاملہ خواتین میں مڈ وائفس کا کردار انتہائی اہم ہوتا جا رہا ہے

جرمنی میں ہر ایک لاکھ خواتین میں سے صرف سات خواتین دوران زچگی ہلاک ہوتی ہیں۔کرسٹین مینز ریہل کہتی ہیں جرمنی میں دوران زچگی خواتین کی ہلاکتوں کی غیر معمولی کم شرح کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہےکہ اگر سادہ طریقوں کو بھی مناسب طرح سے اختیار کیا جائے تو غیر معمولی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

رپورٹ: بینش علی بھٹ

ترجمہ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک