1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

بھارت میں دس سال کی حاملہ بچی کا ابارشن کیا جائے گا

بھارت میں ایک دس سالہ بچی کا اسقاط حمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا حمل بیس ہفتے سے زیادہ کا ہے۔ یہ کم سن بچی متعدد بار اپنے سوتیلے باپ کے ہاتھوں ریپ کا شکار بنی۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق  اس بچی کے سوتیلے باپ کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کیس گزشتہ ہفتے اس وقت منظر عام پر آیا تھا جب اس بچی کو حاملہ ہوئے بیس ہفتے سے زیادہ کا  وقت گزر چُکا تھا۔ حمل کے بیس ہفتوں کے بعد بھارت میں صرف اسی صورت میں اسقاط حمل کی اجازت  ہے جب ماں یا بچے کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو۔

اس کیس کی تحقیقاتی پولیس افسر گریما دیوی نے اے ایف پی کو بتایا، ’’عدالت نے میڈیکل بورڈ کو کہا تھا کہ وہ اس بارے میں فیصلہ کرے، ڈاکٹروں نے یہی فیصلہ کیا کہ اس بچی کا اسقاط حمل کر دینا چاہیے۔ اب تک بورڈ نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کب اس بچی کا ابارشن کریں گے لیکن یہ جلد ہی کیا جائے گا۔‘‘

گزشتہ کچھ عرصے میں بھارت میں ریپ اور انسانی اسمگلنگ جیسے گھناؤنے جرائم کا شکار کئی حاملہ خواتین نے اسقاط حمل کروانے کی اجازت مانگنے کے لیے عدالت عالیہ میں درخواستیں دی ہیں۔ یہ وہ خواتین ہیں جو بیس ہفتوں سے زائد عرصے سے حاملہ ہیں۔ بھارت میں انسانی حقوق پر کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اسقاط حمل کی حد کو چوبیس ماہ تک بڑھا دینا چاہیے کیوں کہ اکثر جنسی زیادتی کی شکار خواتین اپنے حاملہ ہونے کو کسی خوف یا بدنامی کے ڈر کے باعث خفیہ رکھتی ہیں۔

بھارت کے اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق اس دس سالہ بچی کی ماں کا کہنا ہے وہ اس بچی کے سوتیلے باپ کی رہائی چاہتی ہے کیوں کہ وہ اپنے جرم کی معافی مانگ چکا ہے اور اس کو اپنے اور بچوں کی پرورش بھی کرنا ہے۔ بھارت کی شمالی ریاست ہریانہ کے ایک ہسپتال میں موجود متاثرہ بچی کی ماں نے انڈین ایکسپریس کو بیان دیتے ہوئے کہا،’’ میری بیٹی کی زندگی تو تباہ ہو گئی ہے لیکن میرے دوسرے بچوں کا کیا ہوگا ؟‘‘

بھارت میں ریپ کے واقعات ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔ سن 2015 میں نئی دہلی میں قریب 2199 ریپ کے کیسز رجسٹر کیے گئے تھے جس کا مطلب ہے کہ بھارت کے دارالحکومت میں تب ہر روز اوسطاً ریپ کے چھ واقعات پیش آئے تھے۔

سن 2014 میں بچوں کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی نے بھارت میں جنسی تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ریپ جیسے ہولناک واقعات میں ہر  تین میں سے ایک متاثرہ نابالغ بچہ یا بچی تھی۔      

DW.COM