1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت میں خشک سالی ’پانی سونے سے بھی قیمتی‘

بھارت میں خشک سالی کی وجہ سے دس ریاستوں میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ کئی علاقوں میں کسان ڈیموں سے پانی چرانے پر مجبور ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بھارتی ریاست مدھیا پردیش میں پانی کے ذخائر کے ارد گرد محافظ تعینات کر دیے گئے ہیں۔ یہ افراد چوبیس گھنٹے یہاں موجود رہتے ہیں تاکہ خشک سالی کی شکار پڑوسی ریاستوں کے باسی یہاں سے پانی نہ چرا سکیں۔ بڑی گھاٹ نامی اس بند سے مدھیا پردیش کے مختلف علاقوں کو پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ بھارت گزشتہ چند برسوں سے پانی کی شدید قلت کا شکار ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق 330 ملین افراد یا ملکی آبادی کا ایک چوتھائی حصہ خشک سالی سے متاثر ہے کیونکہ متعدد علاقوں میں گزشتہ دو سالوں سے مون سون بارشیں نہیں ہوئی ہیں۔

ایک مقامی سرکاری اہلکار پرشتم سیروہی نے اے ایف پی کو بتایا،’’اس علاقے میں پانی سونے سے زیادہ قیمتی ہو چکا ہے۔ ہم دن رات اس بند کی حفاظت کر رہے ہیں۔‘‘ حکام کے مطابق حفاظتی انتظامات ڈیم میں موجود پانی کے ذخیرے میں ہونے والی کمی کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے کیونکہ شدید دھوپ کی وجہ سے بھی پانی کی سطح میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ مدھیا پردیش میں چار ذخیرہ آب خشک بھی ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے حکام کو ٹینکرز کے ذریعے عوام کو پانی فراہم کرنا پڑ رہا ہے۔

تیکامگہر نامی علاقے کے ایک سرکاری اہلکار لکشمی گیری گوشوامی کہتی ہیں، ’’صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے اور پھر بھی ہم تمام افراد تک پانی پہنچانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں‘‘۔ وہ مزید کہتی ہیں،’’ہم بارش کے بھگوان سے رحم کی درخواست کر رہے ہیں۔‘‘ بھارت میں آبپاشی کا مؤثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے ملک بھر کے کسان مون سون بارشوں پر تکیہ کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ چار ماہ طویل یہ موسم جون سے شروع ہوتا ہے۔ ان حالات میں کسانوں کی ایک بڑی تعداد کھیتی باڑی کو چھوڑ کر شہروں میں منتقل ہو گئی ہے تا کہ کوئی اور کام کر کے کاروبار زندگی کو چلایا جا سکے۔ ایک ستر سالہ کسان مانوبائی پاتولے کے مطابق، ’’ ہمارے پاس شہروں کی جانب ہجرت کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ گاؤں میں نہ بارش ، نہ فصل اور نہ ہی کوئی کام ہے۔‘‘ پاتولے آج کل ممبئی میں رہتے ہیں۔