1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت میں تشدد ناقابل قبول ہے، مودی

بھارتی وزیر اعظم نے گرو گرمیت رام رحیم سنگھ کے مریدوں کی طرف سے تشدد کے واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں تشدد ناقابل قبول ہے۔ اس تشدد کے باعث اب تک 37 افراد ہلاک جبکہ ڈھائی سو زخمی ہو چکے ہیں۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندری مودی نے کہا ہے کہ بھارت میں پرتشدد واقعات ناقابل قبول ہیں اور کسی کو اس طرح کی کارروائیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جمعہ 25 اگست کو ایک عدالت کی طرف سے گرو گرمیت رام رحیم کو جنسی زیادتی کا مجرم قرار دیے جانے کے بعد اس روحانی پیشوا کے مریدوں نے مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا، جس کے باعث اب تک سینتیس افراد ہلاک جبکہ ڈھائی سو زخمی ہو چکے ہیں۔

گُرو رام رحیم زیادتی کیس، پُر تشدد واقعات میں متعدد ہلاکتيں

جنسی زیادتی کا مقدمہ، گرمیت رام رحیم سنگھ مجرم ہیں، عدالت

میں ’میڈیسن بابا‘ ہوں

گرو گرمیت پر جرم ثابت ہو گیا تھا کہ انہوں نے سن دو ہزار دو میں دو خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ یہ عدالت اب اٹھائیس اگست بروز پیر ڈیرہ سچا سودا فرقے کے اس بانی کو سزا سنائے گی۔ اس فیصلے سے قبل گرو گرمیت کے آبائی شہر پنچکولا میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ جمعے کے دن شروع ہونے والے پرتشدد واقعات میں ریاست ہریانہ کے اسی شہر میں اکتیس افراد مارے گئے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا، ’’بھارت مہاتما گاندھی اور گوتم بودھ کا دیس ہے۔ اس قوم میں کسی بھی قسم کا تشدد ناقابل قبول ہے۔‘‘ اپنے ماہانہ ریڈیائی پیغام میں مودی نے پنچکولا کے موجودہ حالات کے تناظر میں مزید کہا کہ ریاست اور حکومت تشدد میں ملوث ہونے والے کسی بھی فرد یا گروپ کو برداشت نہیں کرے گی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے قوم پرست رہنما مودی نے مزید کہا، ’’ہر شہری کو ملکی قوانین کا احترام کرنا ہو گا۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ قانون توڑنے والوں کا احتساب ہو گا اور انہیں سزا دی جائے گی۔

پچاس سالہ گرو گرمیت رام رحیم کو اس وقت روہتک کی جیل میں رکھا گیا ہے۔ مقامی میڈیا نے عدالتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ انہیں کم ازکم سات برس کی سزائے قید سنائی جا سکتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی کے پیش نظر پیر کے دن عدالتی کارروائی جیل کے اندر ہی منعقد ہو گی۔ ہریانہ ریاست کے ایک اعلیٰ اہلکار رام نیواس نے ڈی پی اے کو بتایا ہے کہ اس سلسلے میں سکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور گرو گرمیت کے حامیوں کو روہتک تک رسائی نہیں دی جائے گی۔

ہریانہ ریاست کے حکام کے مطابق جمعے کے دن شروع ہونے والے تشدد کے بعد گرو گرمیت کے فرقے کے ساٹھ مراکز پر چھاپے مارے گئے اور کم ازکم چھ سو افراد کو حراست میں لیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ پولیس نے ان مراکز سے ہتھیار بھی برآمد کیے۔ دوسری طرف گرو گرمیت کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا ہے کہ ان کے روحانی رہنما جنسی زیادتی کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور وہ اس عدالتی فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کریں گے۔ گرو گرمیت کا دعویٰ ہے کہ ان کی مریدوں کی تعداد کم از کم بھی پچاس ملین کے قریب ہے۔

DW.COM