بھارت میں بھٹہ مزدور خواتین حقوق کی تلاش میں | معاشرہ | DW | 25.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت میں بھٹہ مزدور خواتین حقوق کی تلاش میں

بھارتی پنجاب میں اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والی سینکڑوں خواتین اپنے حقوق کے لیے کوشش کر رہی ہیں۔ وہ مردوں کے برابر تنخواہ اور رہائش کی بہتر سہولیات چاہتی ہیں۔

یہ خواتین عام طور پر پس منظر میں رہتی ہیں اور نہ ہی ان کا بطور ورکر اندراج ہوتا ہے۔ تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کے مطابق ایک ہزار سے زائد خواتین جن میں سے زیادہ تر کا تعلق بھارت میں ادنیٰ سمجھی جانے والی ذاتوں سے ہے، گزشتہ ہفتے بھٹنڈہ میں جمع ہوئیں۔ یہ ممکنہ طور پر بھارت میں اپنی نوعیت کی پہلی ملاقات تھی۔

بھارت میں معاشرتی انصاف کے لیے کام کرنے والی ایک رضاکار اور وکیل گنگامبیکا شیکھر نے یہ ایونٹ منعقد کرایا۔ شیکھر کے مطابق، ’’اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والی خواتین حکام کی نظروں میں آتی ہی نہیں۔ انہیں ورکرز سمجھا ہی نہیں جاتا۔ انہیں نہ تو اپنے کام کی درست اجرت ملتی ہے اور نہ ہی دیگر حقوق یا فوائد حاصل ہوتے ہیں۔‘‘

تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن سے بات کرتے ہوئے گنگامبیکا شیکھر کا کہنا تھا، ’’ہم حکومت کو ایک پیغام دینا چاہتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ صوبے میں اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والی خواتین موجود ہی نہیں ہیں۔ لیجیے یہ ہیں وہ خواتین۔‘‘

Drehfotos Biomasse Indien 4/7

بھارت میں اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والی خواتین کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ بھارت کے ’سینٹر فار سائنس اور انوائرنمنٹ‘ کے مطابق بھٹوں پر کام کرنے والے افراد کی کم از کم تعداد ایک کروڑ ہے۔

ماہرین کے مطابق چونکہ بھٹوں پر کام زیادہ تر بے ضابطہ انداز میں ہو رہا ہے اس وجہ سے وہاں کام کرنے والے مزدوروں کا استحصال عام ہے۔ یہ مزدور زیادہ تر دیگر ریاستوں سے ہجرت کر کے آنے والے غریب اور ان پڑھ افراد ہوتے ہیں۔ تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کے مطابق بھارت کی نسبتاﹰ امیر ریاست پنجاب میں اندازوں کے مطابق اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے مزدوروں کی تعداد چھ لاکھ سے زائد ہے۔ ان میں سے قریب نصف تعداد خواتین ورکرز کی ہے مگر بھٹے چلانے والوں کی طرف سے ان کا بطور ورکر الگ سے اندراج نہیں کیا جاتا اور نہ ہی انہیں ان کے شوہروں کو دی جانے والی تنخواہ کے علاوہ کچھ ملتا ہے۔

بہت سی خواتین ورکرز جنسی زیادتی کا بھی شکار ہوتی ہیں۔ ان بھٹوں پر کام کرنے والی ایسی خواتین کی صورتحال تو اور بھی زیادہ بُری ہوتی ہے جو حاملہ ہوتی ہیں کیونکہ انہیں کسی طرح کی طبی سہولیات دستیاب نہیں ہوتیں اور اس حالت میں بھی وہ کام کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔