1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت میں بنیادی ڈھانچےکی ترقی کے لئے فنڈ قائم

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں جمعےکو جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئی دہلی نے ملکی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لئے گیارہ ارب ڈالر مالیت کا ایک فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

default

دی اکنامک ٹائم میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی ماہرین کے مطابق ایک اعشاریہ دو بلین کی شہری آبادی کی ضرویات کو پورا کرنے کے لئے بنیادی اقتصادی ڈھانچوں کی جلد سے جلد بہتری کی اشد ضرورت پا ئی جاتی ہے تاکہ ہمسایہ ملک چین اور باقی دنیا کے ساتھ شانہ بہ شانہ چلا جاسکے اور ملک سے غربت کا خاتمہ کیا جائے۔

اس فنڈ کے قیام کا فیصلہ نئی دہلی میں ایک اجلاس کے دوران کیا گیا جس کی صدارت بھارتی پلاننگ کمیشن کے نائب چئیر مین مونٹک سنگھ اھلووالیا نے کی۔ اس فنڈ کا چالیس فی صد بیرونی امداد سے پورا کیا جائے گا۔

فنڈ اکھٹا کرنے اور اس کی دیکھ بال کے لئے ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جس کا قیام اگلے ماہ انڈو یو۔ ایس فورم کے سربراہان کی اجلاس میں عمل میں لایا جائے گا۔ یہ فورم 2005ء میں امریکی صدر جورج بش اور بھارتی وریراعظم من موہن سنگھ نے تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے قا ئم کیا تھا۔

Manmohan Singh und Montak Singh Ahluwalia

بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ ، مونٹک سنگھ اھلووالیا کے ہمراہ

بھارتی ہاوسنگ ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن کے چیرمین دیپک پاریکھ ،اس کمیٹی کے سربراہ ہوں گے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ بھارت نئے طریقے ڈھونڈے گا جس کے ذریعے طویل المدت بنیادوں پر، بنیادی ڈھانچوں کے لئے رقم کی فراہمی ممکن ہوسکے۔

اس منصوبے کے تحت سمندری بندرگاہوں اور ہائی ویز کی تعمیر کے ‌ذریعے ملک کی اقتصادی حالت کو بہتر کو بنانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ اقتصادی ترقی کو دس فی صد تک بڑھایا جاسکے جو کہ ملک سے غربت کے سد باب کے لئے ضروری ہے۔ کئی سالوں سے بجلی کی پیداوار، سڑکوں اور بندرگاہوں کی تعمیر اور ہوائی اڈوں کو جدید بنانے کو نظرانداز کیا گیا ہے۔

ایک عالمی مشاورتی ادارے میکنزی نے ابھی حال ہی میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو شہری بدنظمی سے بچنے کے لئے شہری ڈھانچوں کو فعال بنانے کے لئے 2030 ء تک دو اعشاریہ دو ٹریلین ڈالر خرچ کرنے ہوں گے، کیونکہ اس وقت تک بھارت کی شہری آبادی تین چھوتائی تک پہنچنے کے امکانات ہیں۔

رپورٹ: بریشنا صابر

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM