1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت میں بلیک بیری سروسز کی معطلی، فیصلہ نہ ہو سکا

بھارتی وزارت داخلہ نے ملکی خفیہ اداروں اور ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس بات پر غور کیا کہ آیا بھارت میں بلیک بیری سروسز پر پابندی لگا دی جانی چاہئے۔

default

اس اجلاس کا مقصد دراصل یہ فیصلہ کرنا تھا کہ اگر بلیک بیری بنانے والی کمپنی RIM بھارتی حکام کو ان کے سکیورٹی تحفظات کا کوئی مناسب حل تجویز نہیں کرتی تو ایسی صورت میں کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔ بھارت اس سمارٹ فون کے ذریعے بھیجے جانے والے ایس ایم ایس پیغامات اور ای میلز تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ اس موبائل فون کو نئی دہلی کے سلامتی سے متعلق مفادات کے خلاف استعمال نہ کیا جا سکے۔

بلیک بیری کے ذریعے جو بھی ایس ایم ایس یا ای میل بھیجی جاتی ہے، وہ مخصوص طریقے سے کوڈ شدہ ڈیٹا کی صورت میں بلیک بیری تیار کرنے والی کینیڈا کی کمپنی ’ریسرچ ان موشن‘ کے اپنے کمپیوٹرز پر منتقل ہوجاتی ہے، اور وہاں سے یہ معلومات ان کے اصل وصول کنندہ کو بھجوا دی جاتی ہیں۔ ’ریسرچ ان موشن‘ کے یہ کمپیوٹرز کینیڈا اور برطانیہ میں موجود ہیں۔ اس طرح کسی بھی ملک کے حکام ان معلومات یا ڈیٹا تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے، جو بلیک بیری کے ذریعے بھیجی جاتی ہیں۔ یہی بات بھارت کے ساتھ ساتھ دیگر کئی ممالک کے لئے، جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، لبنان اور الجزائر بھی شامل ہیں، سلامتی کے حوالے سے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔

Mobile World Congress in Barcelona Flash-Galerie

بھارت میں بلیک بیری صارفین کی تعداد دس لاکھ کے قریب ہے۔

بھارتی وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سیکرٹری داخلہ جی کے پلالی کی زیرصدرات یہ اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، جس میں سرکاری ٹیلی کام ادارے BSNL کے علاوہ سکیورٹی حکام بھی شریک ہوئے۔ اس اہلکار نے مزید بتایا کہ بلیک بیری بنانے والی کمپنی RIM اس اجلاس میں شریک نہیں تھی۔

بھارت میں اس وقت بلیک بیری کے قریب دس لاکھ صارفین ہیں اور اگر اس ملک میں اس سمارٹ فون کی سروسز پر پابندی عائد کی جاتی ہے، تو یہ صارفین اپنے بلیک بیری سیٹ صرف فون کرنے اور انٹرنیٹ کے لئے ہی استعمال کر سکیں گے۔ بھارت ان ملکوں میں شامل ہے جہاں بلیک بیری صارفین کی تعداد نہایت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

بھارت کے ساتھ سکیورٹی کے حوالے سے کھڑے ہونے والے اس مسئلے اور نئی دہلی میں اجلاس کے بارے میں بھارتی دارالحکومت میں موجود RIM کے نمائندے نے کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس