1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت میں ایک اور پُل گرنے سے تیس افراد کی ہلاکت کا خدشہ

بھارت کے شمال مشرقی علاقے میں پیدل چلنے والوں کے لیے دریا پر بنایا گیا ایک پُل گر نے سے بچوں سمیت کم از کم تیس افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔

default

پولیس کے مطابق یہ حادثہ ہفتے کی شام شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کے ایک دور دراز علاقے میں پیش آیا جو آسام کے دارالحکومت گوہاٹی سے تقریباﹰ چھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اعلیٰ پولیس اہلکار کے آیا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباﹰ ستّر افراد دریائے کامینگ پر پیدل چلنے والوں کے لیے بنائے گئے پُل پر موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں وہ Ghandi puk نامی کیڑے پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے، جنہیں مقامی لوگ خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

یہ کیڑے اس موسم میں دریا کے پانی کے اوپر اڑتے رہتے ہیں۔ کے آیا نے کہا کہ اسی دوران پُل دریا میں جا گرا۔ ان کا کہنا تھا کہ اٹھائیس لوگوں کو بچا لیا گیا جبکہ تین لاشیں نکالی گئیں۔ انہوں نے مزید کہا: ’’ہمیں خدشہ ہے کہ تیس افراد جان سے گئے ہیں۔‘‘

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس نے مقامی وقت کے مطابق شب ساڑھے آٹھ بجے تک یہ معلومات دیں۔ تاہم صبح تک حادثے سے متعلق مزید معلومات موصول نہیں ہوئیں۔

بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق اس پل کی لمبائی ستّر میٹر تھی اور دریا سے چالیس فٹ کی بلندی پر تھا، جو اروناچل پردیش کے مشرقی کامینگ ضلع میں سیپا ٹاؤن کو نیو سیپا ٹاؤن شپ سے ملاتا تھا۔

بتایا گیا کہ یہ پُل کافی پرانا تھا اور اس کے گرنے کی وجہ کا پتہ چلانے کے لیے تفتیش کی جائے گی۔ تئیس اکتوبر سے بھارت میں پیش آنے والا یہ اس نوعیت کا دوسرا واقع ہے۔ اُس وقت دارجلنگ میں لکڑی کا ایک پُل گر نے سے چونتیس افراد ہلاک اور تقریباﹰ ایک سو زخمی ہو گئے تھے۔ وہ لوگ اس پل پر ایک سیاسی ریلی کے لیے جمع تھے۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس