1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دفاتر بند

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت کی ہندو انتہا پسند تنظیم ’اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد‘ کی جانب سے حملوں کے خطرے کے پیش نظر بھارت کے مختلف شہروں میں اپنے دفاتر بند کر دیے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ترجمان ہیمانشی مٹا نے نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا، ’’پولیس کے پاس ایسی معلومات ہیں جن کی بنا پر انہوں نے ہمیں احتیاط کرنے کی تجویز دی ہے اس لیے ہم نے بھارت میں اپنے تمام اسٹاف کو کہا ہے کہ وہ جہاں ہیں وہیں سے کام کریں اور دفاتر نہ جائیں۔‘‘

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق جمعرات کے روز بنگلور، ممبئی، چنائی، پونے اور نئی دہلی کے دفاتر بند رہے۔ آج ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے طلباء کے ونگ ’اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد‘ نے بنگلور میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے خلاف ایک ریلی نکالی۔

بھارت میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کو کشمیر کے معاملے پر غداری کے الزامات کا سامنا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے طلباء کی یہ تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے خلاف پولیس کو اپنی شکایت بھی درج کروا چکی ہے۔ ہفتے کے روز اس تنظیم نے بنگلور میں ایمنسٹی کی جانب سے منعقدہ ایک سیمینار میں کچھ کشمیری شرکاء کی طرف سے کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے لگائے جانے پر ایمنسٹی کی بھارتی شاخ کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کروایا تھا۔

اس حوالے سے بھارت میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آکر پٹیل نے پیر 16 اگست کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا، ’’ہمارے خلاف بغاوت کے مقدمے کا درج کیا جانا بھارت میں بنیادی انسانی حقوق اور آزادی پر یقین میں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ ان پر غداری کے الزامات بے بنیاد ہیں لیکن وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ سیمینار میں موجود کچھ شرکاء نے کشمیر کی آزادی کے نعرے لگائے تھے۔ انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ وہ کشمیر کے معاملے پر کسی ایک مؤقف کی تائید نہیں کرتی لیکن وہ آزادیء رائے کی حمایت ضرور کرتی ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تشدد کے تازہ سلسلے میں اب تک 60 سے زائد کشمیری ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا تھا، جب آٹھ جولائی کو نوجوان باغی لیڈر برہان وانی بھارتی فوجیوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارا گیا تھا۔

DW.COM