1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت میں انسانوں کی تجارت کے انسداد کی جامع کوشش

بھارت میں انسانوں کی تجارت کے خلاف ایک نیا قانونی مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔ بھارتی وزیر برائے خواتین و اطفال کے مطابق اس مسودے کے قانون بننے کے بعد متاثرہ افراد کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے گا۔

بھارتی وزیر برائے خواتین و اطفال مانیکا گاندھی نے بتایا کہ اس مسودے کو تیار کرنے کا مقصد ملک میں انسانوں کی تجارت کے انسداد کے حوالے سے موجود مختلف قوانین کو یکجا کرتے ہوئے ایک جامع شکل دینا ہے۔ ان کے بقول اگر یہ مسودہ قانونی شکل اختیار کر گیا تو متاثرہ افراد کی بہتر انداز میں مدد کی جا سکےگی اور کسی قحبہ خانے پر چھاپے کے دوران پکڑے جانے والے اُن افراد کو سزا سے بچایا جا سکے گا، جن سے وہاں زبردستی جسم فروشی کرائی جاتی رہی ہو۔ مانیکا گاندھی نے مزید بتایا، ’’یہ بل انتہائی ہمدردانہ ہے اور اس میں انسانوں کی اسمگلنگ اور تجارت کرنے والوں اور اس کاروبار کا شکار بننے والوں کے مابین واضح فرق رکھا گیا ہے۔‘‘

اس مسودے کی بابت انہوں نے مزید بتایا کہ اس کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف تیز ترین عدالتی کارروائی ممکن ہو سکے گی، اس تجارت کا نشانہ بننے والوں کی بہتر انداز میں بحالی کی جا سکے گی، ان کے لیے مزید مراکز قائم کیے جا سکیں گے اور مالی تعاون بھی بڑھایا جائے گا۔

Menschenhandel

اقوام متحدہ کے انسداد منشیات و جرائم کے دفتر کے مطابق جنوبی ایشیا انسانوں کی تجارت کے حوالے سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا خطہ ہے اور اس فہرست میں مشرقی ایشیا پہلے نمبر پر ہے۔ بھارت میں یہ غیر قانونی کام بہت تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ اس بارے میں کوئی حتمی یا درست اعداد و شمار تو موجود نہیں ہیں تاہم اس شعبے میں سرگرم سماجی کارکنوں اور ان کی تنظیموں کے مطابق بھارت میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو داخلی طور پر بھی اسمگل کیا جاتا ہے جبکہ نیپال اور بنگلہ دیش میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں ہے۔ ان میں ایک بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہوتی ہے۔ اسمگل کی جانے والی زیادہ تر خواتین کی جبری شادیاں کرا دی جاتی ہیں یا پھر ان سے گھروں میں کام کروایا جاتا ہے جبکہ بہت سی خواتین کو جنسی غلام بھی بنا دیا جاتا ہے۔

بھارت میں جرائم کی روک تھام کے ملکی ادارے کے مطابق 2014ء کے دوران انسانوں کی اسمگلنگ کے تقریباً ساڑھے پانچ ہزار مقدمات درج کیے گئے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اس طرح کے واقعات میں 90 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ خواتین اور بچوں کی بہبود کی بھارتی وزیر مانیکا گاندھی نے مزید کہا کہ اس مسودے کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے ان کی وزارت تیس جون تک تجاویز قبول کرے گی۔