1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت میں اسقاط حمل کے ذریعے لاکھوں لڑکیوں کا قتل

آبادی کے اعتبار سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک بھارت میں لڑکیوں کو قبل از پیدائش ہی مار دینے کا رواج یوں تو قدیم ہے تاہم دور جدید میں بھی اس رجحان میں کوئی خاص تبدیلی دیکھنے میں نہیں آ رہی ہے۔

default

الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے شکم مادر میں بچے کی جنس کا پتہ لگایا جا سکتا ہے

اس بارے میں منظرعام پر آنے والی ایک تازہ ترین مطالعاتی رپورٹ میں خوفناک انکشافات کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بچے کی پیدائش سے پہلے ہی اُس کی جنس کے بارے میں معلومات حاصل کر لینے کا مقصد نہایت مثبت بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً مغربی ممالک میں اکثر والدین پیدائش سے قبل بچے کی جنس کے بارے میں اس لیے جاننا چاہتے ہیں تاکہ اُسی مناسبت سے وہ بچے کی ضروری اشیاء کی خریداری کر سکیں۔ لڑکے اور لڑکیوں کے لباس میں بھی فرق ہوتا ہے اور ان کے کھلونے بھی مختلف ہوتے ہیں۔ تاہم بھارت میں بچے کی پیدائش سے قبل ہی اُس کی جنس کے بارے میں جاننے کے بعد یہ فیصلہ کر لیا جاتا ہے کہ آیا بچے کو زندہ سلامت دنیا میں آنے دیا جائے یا قبل از پیدائش ہی اس کی جان لے لی جائے۔ ایسا تاہم لڑکیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے کیونکہ بہت سے گھرانوں میں لڑکی کو ابھی بھی سماجی بوجھ تصور کیا جاتا ہے۔ اس بارے میں ایک معروف طبی جریدے ’دی لانسٹ‘ میں چھپنے والی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بھارت میں چھ سال کی عمر کے لڑکوں کی کُل تعداد کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد 7.1 ملین کم ہے۔

Indien Mädchen Kind Handy Mobiltelefon Handyverbot

بھارت میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بھارت کے ایسے گھرانے جن میں پہلا بچہ لڑکی ہو، زیادہ سے زیادہ والدین دوسرے بچے کی پیدائش سے پہلے الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے بچے کی جنس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر شکم مادرمیں دوسرا بچہ بھی لڑکی ہی ہو، تو والدین اسقاط حمل کا فیصلہ کر لیتے ہیں، اس امید پر کہ تیسرا بچہ شاید لڑکا ہو۔ ماہرین کے مطابق بھارت کے امیر گھرانوں میں اکثر لڑکے اور لڑکیوں کے تناسب میں عدم توازن دیکھنے میں آتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق 1980 ء اور 2010 ء کے درمیان 12 ملین لڑکیوں کو اُن کی جنس کی وجہ سے اسقاط حمل کے ذریعے مار دیا گیا۔ ماہرین نے کہا ہے کہ بھارت میں جنس کی بنیاد پر بچیوں کے اسقاط حمل کے کیسس میں گزشتہ چند دہائیوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اس کے سبب معاشرے میں لڑکے اور لڑکیوں کی شرح میں سخت عدم توازن پیدا ہو گیا ہے۔ 1991ء میں جنوبی ایشیا کی ترقی کی طرف تیزی سے گامزن ریاست بھارت میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد 4.2 ملین کم تھی تاہم 2001ء میں مزید کم ہو کر6.0 ملین تک پہنچ گئی۔

Symbolbild junger Geschäftsmann

پدر سری معاشرے بھارت میں اب بھی لڑکوں کو لڑکیوں پر فوقیت دی جاتی ہے

دی لانسٹ میں چھپنے والی رپورٹ سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ شکم مادر میں پوری طرح نشو و نُما پانے والے بچے یا غیر مولود بچے کے اسقاط کی بنیادی وجہ لڑکیوں پر لڑکوں کو فوقیت دینے کا صدیوں سے چلا آ رہا فرسودہ رجحان ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تولید کی اہلیت یا بار آوری میں کمی بھی بھارتی معاشرے میں لڑکیوں کی گھٹتی ہوئی تعداد کا سبب بن رہی ہے۔ بھارت میں فی عورت بچے کی پیدائش کی اوسط شرح 1990 ء میں 3.8 تھی جو 2008 میں گر کر 2.6 ہو گئی۔

بھارت میں ان رجحانات کے سبب لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں کی تعداد 32 ملین زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال کئی دہائیوں تک برقرار رہے گی۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس