1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

بھارت میں ارزاں کمپیوٹر سے اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے انقلاب میں توسیع

بھارت میں طویل انتظار کے بعد آج بدھ کو ایک انتہائی سستے کمپیوٹر کی تقریب رونمائی ہو گی جس سے ملک کے طول و عرض میں موجود لاکھوں طلباء کو اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے ثمرات سے مستفید ہونے میں مدد ملے گی۔

default

ٹچ اسکرین کی خصوصیت کے حامل ٹیبلٹ کمپیوٹر کی اسکرین کا سائز صرف سات انچ ہو گا اور اس میں وائی فائی انٹرنیٹ رسائی، میڈیا پلیئر اور تین گھنٹے بیٹری پاورکی سہولیات موجود ہوں گی۔

مقامی ساختہ اس کمپیوٹر کو آکاش کا نام دیا گیا ہے اور اس کا افتتاح دارالحکومت نئی دہلی میں انسانی وسائل کی ترقی کے وزیر کپل سیبال کریں گے۔

وزارت کی خاتون ترجمان ممتا ورما نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’’کمپیوٹر کی لاگت 2,200 روپے (45 ڈالر) ہو گی اور افتتاح کے بعد 500 کمپیوٹرز کی پہلی کھیپ طلباء کے حوالے کی جائے گی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ابتدا میں روزانہ 700 آکاش ٹیبلٹس پی سی تیار کیے جائیں گے اور ہمیں امید ہے کہ مزید کمپنیوں کی شمولیت سے پیداواری عمل میں تیزی آئے گی۔

Flash-Galerie Wochenrückblick KW 34

بھارت میں ایپل کے آئی پیڈ کی قیمت 600 ڈالر ہے جبکہ بھارتی ساختہ آکاش ٹیبلٹ پی سی 45 ڈالر میں دستیاب ہو گا

آکاش کی تجارتی مارکیٹنگ کی حکمت عملی ابھی واضح نہیں ہے مگر بیشتر کمپیوٹر دکانوں کی بجائے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ذریعے فروخت کیے جائیں گے۔

اس وقت کینیڈا کی کمپنی ڈیٹاونڈ یہ کمپیوٹر تیار کر رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ آکاش ٹیبلٹ میں اینڈروئڈ 2.2 آپریٹنگ سسٹم، وڈیو کانفرنسنگ کی صلاحیت، دو یو ایس بی پورٹس اور 32 گیگا بائٹس میموری ہو گی۔  تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کی 256 میگابائیٹ رینڈم ایکسس میموری سے کارکردگی محدود ہو جائے گی۔

تجارتی صنعت کاروں کو امید ہے کہ بھارتی صارفین پرسنل کمپیوٹرز چھوڑ کر اسی طرح ٹیبلٹس خریدیں گے جس طرح لینڈ لائن ٹیلی فون کا انتظار چھوڑتے ہوئے لاکھوں افراد موبائل فون خرید رہے ہیں۔

Frauen online

آکاش ٹیبلٹ کمپیوٹر کا مقصد اعلٰی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلباء کی تعداد بڑھانا ہے اور انہیں معیشت کے لیے ناگزیر ٹیکنالوجی کی ضروری صلاحیتوں سے لیس کرنا ہے

ایپل کمپنی کے مشہور آئی پیڈ کمپیوٹر کی قیمت بھارت میں 600 ڈالر ہے جبکہ اس کی حریف بھارتی کمپنی ریلائنس کمیونیکیشنز ایک مسابقتی ٹیبلٹ کمپیوٹر 290 ڈالر میں پیش کر رہی ہے۔

آکاش ٹیبلٹ کمپیوٹر کا مقصد اعلٰی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلباء کی تعداد بڑھانا ہے اور انہیں ملک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اقتصادی نمو کے لیے ناگزیر ٹیکنالوجی کی ضروری صلاحیتوں سے لیس کرنا ہے۔

حکومت نے پہلے جنوری 2011ء میں ایک لاکھ آکاش کمپیوٹر پیش کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر شاید حکومتی زر اعانت یا سبسڈی کے بارے میں پائے جانے والے غیر یقینی پن سے بڑے پیمانے پر پیداوار متاثر ہوئی۔

صنعتی مبصرین کا کہنا ہے کہ افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی لاگت، ارزاں درآمدات اور زیادہ خصوصیات کے حامل ٹیبلٹ کمپیوٹر بھارت کے ٹیکنالوجی کے شوقین نوجوانوں میں آکاش کی مقبولیت کم کر سکتے ہیں۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: عابد حسین

DW.COM