1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت ميں ميٹرنٹی بل منظور، نئی ماؤں کے ليے مراعات ميں اضافہ

بھارتی روزگار کی منڈی ميں خواتين کے گھٹتے ہوئے تناسب کے مسئلے کے حل کے ليے نئی دہلی حکام نے قانون ميں ترميم کرتے ہوئے ملازمت کرنے والی خواتین کے ليے بہت سی مراعات بڑھانے کا فيصلہ کيا ہے۔

بھارتی پارليمان نے نو مارچ کی شام اس بل کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت بچے کی پيدائش کے بعد خواتين کے ليے چھٹيوں کی مدت بارہ ہفتوں سے بڑھا کر چھبيس ہفتے کر دی گئی ہے۔ اس دوران انہيں مکمل اجرت ادا کی جائے گی۔ بچہ گود لينے والی خواتین بارہ ہفتے کی چھٹياں جبکہ بچے کو دودھ پلانے والی ماؤں کے ليے يہ رعايت بھی فراہم کی گئی ہے کہ مخصوص مدت کے ليے وہ اپنے گھر ہی سے کام کر سکيں۔

بل ميں پچاس سے زائد افرادی قوت کی حامل کمپنيوں کے ليے يہ لازم کر ديا گيا ہے کہ وہ کمپنيوں کے اندر ايسی جگہيں فراہم کريں جہاں عورتيں اپنے بچوں کی ديکھ بھال کر سکيں اور يہ بھی کہ اس کام کے ليے انہيں وقت ديا جائے۔

بھارت بچوں کو مناسب غذا کی فراہمی کے معاملے ميں کئی ممالک سے پيچھے ہے۔ وہاں صرف پچپن فيصد مائيں اپنے بچوں کی پيدائش کے بعد چھ ماہ تک انہيں اپنا دودھ پلاتی ہيں۔ علاوہ ازيں روزگار کی منڈی ميں بھی عورتوں کی شراکت بائيس فيصد ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنيا کے تمام ممالک کا جائزہ ليا جائے تو يہ اوسط سينتاليس فيصد ہے۔

بھارتی وزير برائے خواتين اور بچے مانيکا گاندھی کے مطابق ميٹرنٹی بل کی منظوری ايک ايسا تاريخی قدم ہے جس کی بدولت بھارت ان ملکوں کی فہرست ميں شامل ہو جائے گا، جن ميں نئی ماؤں کی سب سے زيادہ قدر کی جاتی ہے۔ اپنی وزارت کے فيس بک پيچ پر آج جمعے کو ايک ويڈيو پيغام ميں انہوں نے کہا کہ چھبيس ہفتوں کی رخصت، ماں اور بچہ دونوں ہی کی تندرستی کے ليے اچھی ہے۔