1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت ’موسٹ فیورڈ نیشن‘ کتنا فائدہ کتنا نقصان

پاکستان کی طرف سے بھارت کو ’موسٹ فیورڈ نیشن‘ کا درجہ دینے کے فیصلے کو پاکستان کی پالیسی میں بہت بڑی تبدیلی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف اس فیصلے پر صنعتی برادری کی طرف سے بھی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

default

پاکستان کے کاروباری حلقوں میں اس فیصلے کے حوالے سے متفرق خیالات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بیرونی دباؤ میں آکر جلد بازی میں کیا گیا ہے اور اس سے پاکستانی صنعت پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک حتمی فیصلہ پارلیمنٹ میں اس ایشوکو اچھی طرح زیر بحث لانے اور تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بعد ہی ہونا چاہیے۔

چاول کے تاجروں سے لیکر کاریں بنانے والے صنعتکاروں تک بہت سے کاروباری حلقوں میں اس فیصلے نے خطرے کی گھنٹی سی بجا دی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انڈیا اپنے بڑے پیداواری حجم اور اپنی کم پیداواری لاگت کی وجہ سے پاکستانی مارکیٹوں پر قبضہ کر لے گا، ملکی صنعتیں بند ہو جایئں گی اور بےروزگاری میں اضافہ ہو گا۔

اس وقت پاکستان کی بھارت کو برآمدات دو سو ستاون ملین ڈالرز کے لگ بھگ ہیں

اس وقت پاکستان کی بھارت کو برآمدات دو سو ستاون ملین ڈالرز کے لگ بھگ ہیں

دوسری طرف اس فیصلے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ ملنے سے علاقائی تجارت مین اضافہ ہو گا۔ پاکستانی صنعتوں کو سستا خام مال مل سکے گا، انڈیا کو نان ٹیرف بیریئرز ختم کرنا پڑیں گے اور یورپی یونین سے پاکستانی ٹیکسٹائل سیکٹر کو ملنے والی سہولتوں کو اب بھارتی مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ان حلقوں کے بقول اس فیصلے سے مسابقت سے ڈرنے والی بعض صنعتوں کوتو کچھ چیلینجز درپیش ہوں گے لیکن صارفین کو سستی اشیا مل سکیں گی اور ملکی معیشت میں بہتری آئے گی۔

یاد رہے پاکستان اور بھارت تقسیم ہند کے بعد ایک دوسرے کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دے چکے تھے لیکن ساٹھ کی دہائی میں پاکستان نے باہمی اختلافات کی وجہ سے یہ فیصلہ واپس لے لیا تھا۔

بھارت نے انیس سو پچانوے میں پاکستان کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دے دیا تھا تاہم اس کے باوجود اس وقت پاکستان کی بھارت کو برآمدات دو سو ستاون ملین ڈالرز کے لگ بھگ ہیں اور پاکستانی برآمدکنندگان کو بھارت سے نان ٹیرف بیریئرز کی کافی شکایات ہیں۔ دوسری طرت یہ درجہ نہ رکھنے کے باوجود بھارت سالانہ یک ہزار پانچ سو ساٹھ ملین ڈالرز کی اشیاء پاکستان کو بیچتا ہے اور غیرقانونی طور پر آنے والی تجارتی اشیاء اس کے علاوہ ہیں۔

بھارت سالانہ یک ہزار پانچ سو ساٹھ ملین ڈالرز کی اشیاء پاکستان کو بیچتا ہے

بھارت سالانہ یک ہزار پانچ سو ساٹھ ملین ڈالرز کی اشیاء پاکستان کو بیچتا ہے

یہ بات قابل ذکر ہے کہ دونوں ملک عالمی تجارتی تنظیم ڈبلیو ٹی او کے رکن ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کو تجارتی آسانیاں فراہم کرنے کے پابند ہیں، پاکستان سو ملکوں کو یہ درجہ دے چکا ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف پاکستان کوسستی اشیا کی درآمد کی وجہ سے آٹھ سو ملین ڈالر سالانہ کا فائدہ ہو گا بلکہ پاک بھارت تجارتی حجم میں تین گنا اضافہ بھی ہو جائے گا۔

پاکستان کے ممتاز ماہر اقتصادیات اور لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز میں اقتصادیات کے شعبے کے سابق سربراہ ڈاکٹر فیصل باری نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ اس فیصلے کے مثبت اور منفی اثرات کا حتمی طور پر اندازہ لگانا ابھی آسان نہیں ہے کیونکہ کئی دہائوں کی دشمنی پر مبنی مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرکے اس فیصلے پر اس کی صحیح روح کے مطابق عمل کرانا آسان نہیں ہو گا۔ ان کے بقول آنے والے دنوں میں دیکھنا یہ ہو گا کہ دونوں ملک کاروباری لوگوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ویزوں کی فراہمی کو آسان بنانے، بینکوں کی سرحدپار برانچیں کھولنے، بارڈر پر ڈرائی پورٹس قائم کرنے اور باہمی تجارتی اختلافات کو دور کے لیے کس قدر سرگرمی سے کام کرتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کمزور جمہوری حکومت فوج کی رضامندی کے بغیر یہ فیصلہ نہیں کر سکتی تھی۔ ان کے خیال میں لگتا یہ ہے کہ پاکستان آرمی نے بدلتے ہوئے حالات اور ضرورتوں کے پیش نظر یہ اندازہ لگا لیا ہے کہ موجودہ دور کے بدلے ہوئے تقاضوں کی وجہ سے پاک بھارت تجارتی تعلقات کا فروغ ضروری ہے اور اس ایشو کو مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ مشروط کرنا اب قابل عمل آپشن نہیں رہا ہے۔ ان کے بقول آنے والا وقت ہی یہ بتائے گا کہ یہ فیصلہ پاکستان کے مقتدر حلقوں کی سوچ کی تبدیلی پر مبنی ہے یا کسی اور حکمت عملی کا حصہ ہے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس