1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت: مسیحیوں کے خلاف تشدد

بھارت میں مسیحیوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران جنوبی ریاست کرناٹک میں مسیحیوں پر ہونے والے حملوں کی تحقیقات کرنے والے دو الگ الگ عدالتی کمیشنوں نے متضاد رپورٹیں دے کر معاملے کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔

default

ریاست اڑیسہ میں ہندو شدّت پسند تنظیم کا ایک کارکن گرجا گھر کی عمارت پر اپنا جھنڈا لگاتے ہوئے

اس سے قبل دو ہزار دو میں گودھرا میں ٹرین آتش زنی معاملے کے متعلق بھی عدالتی کمیشنوں نے متضاد رپورٹیں دی تھیں۔‍

جنوبی بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں 2008 میں پہلی مرتبہ حکومت کے قیام کے ساتھ ہی مسیحیوں کے خلاف پرتشدد حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ ریاست کے مختلف اضلاع میں گرجاگھروں اور مسیحیوں کو نشانہ بنایا گیا ۔ مسیحیوں کا الزام ہے کہ ان حملوں کے پیچھے شدت پسند ہندو تنظیموں آر ایس ایس، بجرنگ دل اور رام سینا کے لوگوں کا ہاتھ ہے جنہیں ریاست کی بی جے پی حکومت کی تائید و حمایت حاصل ہے۔

Bharatiya Janata Party Partei Indien Yediyurappa

بی ایس یدیورپا حکومت نے ان معاملات کی انکوائری کے لئے جسٹس بی کے سوم شیکھر کمیٹی قائم کی تھی

اپوزیشن پارٹیوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی طرف سے زبردست احتجاج اور مطالبات کے بعد بالآخر ریاست کی بی ایس یدیورپا حکومت نے ان معاملات کی انکوائری کے لئے جسٹس بی کے سوم شیکھر کمیٹی قائم کی جس نے گو کہ اپنی عبوری رپورٹ میں مسیحیوں پر حملوں کے لئے ہندو شدت پسند تنظیموں کی طرف انگلی اٹھائی لیکن 28ماہ کی طویل تفتیش کے بعد اپنی حتمی رپورٹ میں ریاستی حکومت کے ساتھ ساتھ آر ایس ایس، بجرنگ دل اور رام سینا کو بھی کلین چٹ دے دی۔

دوسری طرف ممبئی ہائی کورٹ اور کرناٹک ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس ایم ایف سلدھانا کی قیادت والی آزاد انکوائری کمیٹی نے مسیحیوں اور گرجاگھروں پر ہونے والے حملوں کے لئے نہ صرف شدت پسند ہندو تنظیموں بلکہ ریاستی پولیس اور حکومت کو بھی مورد الزام ٹھہرایا۔

جسٹس مائیکل سلدھانا نے فارینسک ثبوتوں اور میڈیا کی رپورٹوں کے علاوہ 400 مقامات کا دورہ کرنے اور تقریباً تین ہزار گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر 308 صفحات پر مشتمل جو رپورٹ تیار کی اس میں وزیر اعلی اور اس وقت کے وزیر داخلہ کو مسیحیوں کے خلاف تشدد اور مظالم کے لئے مدد کرنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسیحیوں پر ہونے والے حملے پوری طرح منصوبہ بند تھے اور انہیں حکومت کی تائید و حمایت حاصل تھی۔ جسٹس سلدھانا نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بجرنگ دل اور سری رام سینا کے لیڈروں نے سرعام اپنے جرائم کا اعتراف کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ مسیحیوں کو سبق سکھانے کے لئے اس طرح کے حملے کرنے کے لئے انہیں حکومت کی مدد حاصل رہی ہے۔

Wahlen in Indien Flagge Kongresspartei

اپوزیشن کانگریس نے مسیحیوں پر ہونے والے حملوں کی مرکزی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی سے انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے

جسٹس مائیکل سلدھانا نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جسٹس سوم شیکھر نے عبوری رپورٹ میں تو بجرنگ دل اور رام سینا کے لوگوں کو حملوں کے لئے قصور وار گردانا لیکن بعد میں وزیر اعلی کے دباو میں آکر ان لوگوں کو کلین چٹ دے دی۔ جسٹس سلدھانا نے مزیدکہا کہ اپنی تفتیش کے دوران انہوں نے پایا کہ پولیس نے متاثرین کو سیکورٹی فراہم کرنے اور گرجا گھروں کو تشدد کا شکار ہونے سے بچانے کے بجائے حملہ آوروں کو بچانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی آئین نے اقلیتوں کو جو حقوق دئے ہیں کرناٹک میں ان کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی گئی ہے۔

اس دوران کرناٹک اسمبلی میں اپوزیشن کانگریس اور جنتا دل نے مسیحیوں پر ہونے والے حملوں کی مرکزی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی سے انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے تاہم بی جے پی حکومت نے اس مطالبے کو یکسر مسترد کردیا۔ دریں اثناءکرناٹک کے ایک اور شہر بیلگام میں ایک کیتھولک اسکول کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔ ڈائیوسیز آف بیلگام کے فادر لوسیو میسکرنیہاس نے بتایا کہ بنگلور اور منگلور کے بعد اب شدت پسندوں نے بیلگام میں بھی مسیحیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

افتخار گیلانی، نئی دہلی

ادارت، شامل شمس

DW.COM