1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت، مرد شادی کے خواہشمند مگر دلہنیں ناپید

بھارت کی ریاست ہریانہ سے تعلق رکھنے والے سدہا رام بیرول نے جب دس سال پہلے شادی کرنا چاہی تو اس کے خاندان والے روایتی طریقے سے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے گھر کے چکر لگا کر تھک گئے مگر کوئی من پسند دلہن تلاش نہ کر پائے۔

کافی تگ و دود کے بعد ایک دوست کے توسط سے ایک لڑکی سدہا رام سے شادی کرنے کے لیے راضی ہوئی۔ لیکن اس لڑکی کا تعلق سدہا رام کے مقامی گاؤں سے دو ہزار سات سو کلو میٹر دور بھارت کی جنوبی ریاست کیرالا سے تھا۔ یوں یہ لڑکی ایک مکمل مختلف زبان اور رسم ورواج کو خیرباد کہہ کر ہریانہ چلی آئی۔

لڑکیوں کی کمی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارتی ریاست ہریانہ میں جب دوران حمل پتہ چلتا ہے کہ پیدا ہونے والی لڑکی ہے تو مبینہ طور پر حمل گرا دیا جاتا ہے۔ صورخی گاوں سے تعلق رکھنے والے ایک ریٹائرڈ اسکول ٹیچر اُوم پرکاش کا کہنا ہے ’صرف اس گاوں میں دو سو سے لے کر دو سو پچاس تک ایسے نوجوان ہیں، جن کی شادی صرف اس وجہ سے نہیں ہو پا رہی کیونکہ انہیں کوئی لڑکی ہی نہیں مل رہ‘۔

سن 1994 میں جب یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ والدین واقعی پیدائش سے قبل ہی لڑکیوں کو ماں کی کوکھ میں ہی ہلاک کر رہے ہیں تو بھارت کی حکومت نے جنس کے تعین کرنے والے ٹیسٹس پر پابندی لگا دی تھی مگر یہ ٹیسٹس اب بھی دور دراز کے علاقوں میں موبائل میڈیکل وین کے ذریعے ہو رہے ہیں۔

کئی بھارتی خاندانوں میں لڑکوں کو لڑکیوں پر کافی فوقیت دی جاتی ہے کیونکہ لڑکیوں کو بھاری جہیز دینا پڑتا ہے جبکہ بھارت کے قانون میں جہیز دینا اور لینا دونوں ہی منع ہیں لیکن یہ روایت ابھی بھی جاری ہے۔ لڑکیوں کی خواہش اس لیے بھی کم کی جاتی ہے کیونکہ قدامت پسند گھرانوں میں وہ پرائی تصور کی جاتی ہیں۔

ایک اور شہری ویریندر بیرول کا کہنا ہے، ’پہلے لڑکی کے گھر والے لڑکے ڈھونڈتے تھے اور انہیں بھاری جہیز کے عوض شادی کے لیے راضی کیا جاتا تھا لیکن اب لڑکی والے لڑکے صرف اس لیے دیکھتے ہیں کہ اس کے پاس کتنی زمین ہے، اس کی نوکری سرکاری ہے یا نہیں اور کیا یہ ان کی بیٹی کو خوش رکھ پائے گا یا نہیں‘۔

Indien Mitgift Hochzeit in Amritsar 2010

بھارت کے قانون میں جہیز دینا اور لینا منع ہے لیکن یہ روایت ابھی تک ختم نہیں ہو سکی ہے

انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کی کمی کی وجہ لڑکیوں کی اسمگلنگ بھی ہے۔ شمالی بھارتی ریاستوں جیسے کہ ہریانہ اور پنجاب میں انسانی اسمگلنگ اب ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ ایجنٹس لڑکیوں کو اچھی نوکریوں اور شوہروں کا جھانسہ دے کر لے جاتے ہیں اور پھر انہیں بیچ دیا جاتا ہے۔ آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمن ایسوسی ایشن کی جنرل سیکرٹری جگمتی سنگوان کا کہنا ہے کہ ’ایسا بہت بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔ ‘

بھارت کی نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے اعدادوشمار کے مطابق صرف سن 2013 میں 25000 ایسی لڑکیوں اور خواتین کو اغوا کر کے ملک کے دوسرے حصوں میں شادی کے نام پر بیچا گیا، جن کی عمریں 15 سے لے کر 30 سال تک کے درمیان تھیں۔

سدہا رام بیرول کی شادی کے بعد بہت سے لوگ اب کیرالا میں شادی کر رہے ہیں۔ کیرالا سے شادی کرکے آنے والی متعدد خواتین نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ شادیاں اس لیے کر لیتی ہیں کہ لڑکے والے شادی کے تمام اخراجات اٹھاتے ہیں اور اس طرح ہمیں بھاری جہیز نہیں ادا کرنا پڑتا۔