1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت: ماورائے عدالت قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات

ہیومن رائٹس واچ نے بھارتی پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق  بھارتی پولیس اکثر گرفتاری کے طریقہ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے مشتبہ افراد کو بے ہیمانہ تشدد کا نشانہ بناتی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ ( ایچ آر ڈبلیو) کے اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ 2010ء اور 2015ء کے درمیان پولیس کی تحویل میں تشدد سے کم از کم 591 افراد ہلاک ہوئے۔ اس صورتحال میں پولیس کو ان واقعات کا ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے حکام نے پولیس کو ایک بہتر محکمہ بنانے کے لیے جاری اصلاحاتی سلسلے کو بھی روک دیا۔ ایک سو چودہ صفحات پر مبنی یہ رپورٹ ہلاک شدگان کے اہل خانہ سے انٹرویو، عینی شاہدین اور قانون کے ماہرین کے علاوہ پولیس اہلکاروں سے بات چیت کرنے کے بعد تیار کی گئی ہے۔ اس میں 2009ء سے 2015ء کے دوران رونما ہونے والے سترہ واقعات کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ان سترہ میں کسی بھی گرفتاری میں قانون کا خیال نہیں رکھا گیا۔

 ایچ آر ڈبلیو کے جنوبی ایشیا شاخ کی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی کہتی ہیں،’’بھارتی پولیس کو یہ سمجھنا ہو گا کہ تشدد کے ذریعے اعتراف جرم کروانا غلط طریقہ ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب اذیت دینے والے پولیس افسران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔‘‘ گنگولی کے بہ قول رپورٹ کی تیاری کے دوران یہ حقائق سامنے آئے ہیں کہ کئی مرتبہ ماورائے عدالت قتل کی تفتیش کرنے والے پولیس افسراں کو حقائق تک پہنچنے کے بجائے اپنے ساتھیوں کو بچانے کی زیادہ فکر ہوتی ہے۔

بھارتی پولیس قتل کے اس طرح کے واقعات کو اکثر خودکشی، بیماری یا طبعی موت قرار دیتی ہے جب کہ لواحقین کا اصرار ہوتا ہے کہ زیر حراست ان کے پیارے کو تشدد کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔ بھارت کے قومی اور ریاستی ہیومن رائٹس کمیشنز ایسے واقعات کی تفتیش اور متاثرین کو زر تلافی  کی تجویز دیتے ہیں۔ لیکن ماورائے قتل کے خلاف شاذ و نادر ہی کوئی کارروائی کی جاتی ہے۔ متاثرہ افراد کے خاندان اور خاص طور پر غریب یا سماجی طور پر کمزور افراد اگر انصاف کے حصول کی کوششیں کریں تو انہیں پولیس کی جانب سے دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

ملتے جلتے مندرجات